English Translation
Narrated Aisha (may Allah be pleased with her): From the time I became aware, I found my parents practicing Islam. Not a day passed without the Prophet visiting us, morning and evening. When the Muslims faced severe persecution, Abu Bakr set out to migrate to Abyssinia. At Bark Al-Ghimad, he met Ibn Ad-Daghinah, chief of the Qarah tribe, who said: "A man like you, Abu Bakr, neither leaves nor is expelled. You provide for the destitute, maintain family ties, bear the burdens of others, and aid those in distress. I offer you my protection." Abu Bakr returned to Makkah under his protection, on the condition that he worship at home privately. Eventually, Abu Bakr built a small mosque in his courtyard where he prayed and recited Quran. The polytheist women and children would gather around, amazed, as Abu Bakr was a man who wept easily during recitation. The Quraysh complained to Ibn Ad-Daghinah. Abu Bakr returned the protection, saying: "I am content with Allah's protection." The Prophet then told the Muslims he had been shown their destination of migration: a land with date palms and two stony tracts — meaning Madinah. Abu Bakr prepared to emigrate, but the Prophet told him: "Wait, for I hope permission will be granted to me too." Abu Bakr waited, feeding two she-camels for four months. One midday, the Prophet came at an unusual hour and told Abu Bakr: "I have been given permission to emigrate." Abu Bakr asked to accompany him, and the Prophet agreed, accepting one of the she-camels at its price. Asma prepared their provisions, tearing her belt to tie the bundle — earning the name 'She of the Two Belts.' They hid in the Cave of Thawr for three nights, with Abdullah bin Abu Bakr bringing them news, and Amir bin Fuhairah bringing them milk from a flock. They hired a guide from Banu Ad-Dil. On the third night, the guide brought the camels and they departed along the coastal route. Suraqah bin Malik pursued them for the reward of a hundred camels but his horse kept sinking into the ground. He called out for safety, and the Prophet granted it, giving him a written guarantee. Upon reaching Madinah, the Prophet was met with great joy. He stayed with Banu Amr bin Awf for over ten nights, laid the foundation of the Mosque of Quba, then rode to the site where his she-camel sat down. He purchased the land from two orphans, Suhail and Sahl, refusing to take it as a gift, and built the Prophet's Mosque. During construction, he carried bricks himself, reciting: "O Allah, the true reward is that of the Hereafter, so have mercy on the Ansar and the Muhajirun."
Urdu Translation
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہجب سے مجھے اپنے والدین کی شناخت ہوئی (اتنی عقل آئی) تو میں نے ان کو دین اسلام ہی پر پایا اور ہمارا کوئی دن نہیں گزرتا تھا کہ اس میں نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمہمارے پاس تشریف نہ لائے ہوں، آپصلی اللہ علیہ وسلمدن میں دو دفعہ آتے، صبح اور شام کو۔ پھر جب مسلمانوں کو (مشرکین سے) سخت تکالیف پہنچنے لگیں تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ حبشہ کی طرف ہجرت کی نیت سے نکلے یہاں تک کہ جب مقام برک غماد میں پہنچے تو وہاں ابن الدغنہ سے ملے، وہ قوم قارہ کا سردار تھا، اس نے کہا کہ اے ابوبکر! کہاں کا قصد ہے؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے میری قوم (قریش) نے نکال دیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ زمین میں سیر و سیاحت کروں اور اپنے رب کی عبادت کروں۔ ابن الدغنہ نے کہا کہ اے ابوبکر! تیرے جیسے لوگ نہ نکلتے ہیں اور نہ نکالے جاتے ہیں، تم لوگوں کو جو چیز ان کے پاس نہیں ہوتی وہ مہیا کر دیتے ہو، صلہ رحمی کرتے ہو، لوگوں کا بوجھ اپنے سر پر اٹھا لیتے ہو، مہمان نوازی کرتے ہو اور جھگڑوں میں حق کی مدد کرتے ہو۔ پس میں تمہیں پناہ دیتا ہوں، تم واپس لوٹ جاؤ اور اپنے شہر میں ہی اپنے رب کی عبادت کرو۔ پس سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ واپس آ گئے اور ابن الدغنہ بھی آپ کے ساتھ آیا اور ابن الدغنہ شام کے وقت قریش کے سرداروں کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ بیشک ابوبکر جیسا (عمدہ) آدمی نہ نکلتا ہے اور نہ (قوم سے) نکالا جاتا ہے، کیا تم ایسے شخص کو نکالتے ہو جو لوگوں کو وہ چیزیں مہیا کرتا ہے جو ان کے پاس نہیں ہوتیں اور صلہ رحمی کرتا ہے، دوسروں کا بوجھ اپنے سر لینے والا، مہمان نواز اور حق والے شخص کی مدد کرنے والا ہے۔ قریش نے ابن الدغنہ کی پناہ کو رد نہیں کیا (منظور کر لیا) اور ابن الدغنہ سے کہا کہ تم ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کو سمجھا دو کہ وہ اپنے گھر میں اللہ کی عبادت کریں اور وہیں نمازیں پڑھیں اور قرآت کریں اور اس سے ہمیں اذیت نہ دیں اور نہ اس کو اعلانیہ پیش کریں کیونکہ ہم (اعلانیہ پیش کرنے سے) اپنی عورتوں اور بیٹوں کے بگڑ جانے کا خوف رکھتے ہیں۔ پس ابن الدغنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے یہ سب کہہ دیا، پس سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اسی شرط پر مکہ میں رہے۔ وہ اپنے گھر میں اپنے رب کی عبادت کرتے اور اعلانیہ نماز نہ پڑھتے اور نہ اپنے گھر کے سوا کہیں اور قرآن پڑھتے۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر کے صحن میں ایک مسجد بنائی اور اس میں نماز پڑھتے اور قرآن کی تلاوت کرتے، پس مشرکین کی عورتیں اور ان کے بیٹے (بہت سے لوگ) اکٹھے ہو جاتے اور وہ سب (قرآن سن کر) انھیں دیکھتے اور تعجب کا اظہار کرتے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بہت زیادہ رونے والے آدمی تھے، جب وہ قرآن پڑھتے تو اپنے آنسو نہ روک سکتے، اس صورت حال سے مشرکین قریش گھبرا گئے اور ابن الدغنہ کو بلوایا، وہ ان کے پاس آیا تو انھوں نے کہا کہ ہم نے ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کو تیری پناہ میں دینا اس شرط سے قبول کیا تھا کہ وہ اپنے گھر میں رہ کر پروردگار کی عبادت کریں اور اس نے اس شرط کے خلاف کیا اور اس نے اپنے گھر کے صحن میں ایک مسجد بنائی ہے، وہاں اعلانیہ نماز ادا کرتے اور قرآن پڑھتے ہیں اور بیشک ہم اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں ہماری عورتیں اور بچے گمراہ نہ ہو جائیں، تم ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کو اس سے روکو، اگر وہ صرف اپنے گھر کے اندر عبادت کرتے ہیں تو کرتے رہیں اور اگر وہ نہ مانیں اور اعلانیہ عبادت کرنے پر ہی ڈٹے رہیں تو تم اپنی پناہ ان سے واپس مانگ لو، ہم تمہاری پناہ توڑنا پسند نہیں کرتے اور یہ بھی نہیں کر سکتے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اعلانیہ عبادت کرنے دیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ابن الدغنہ (یہ سب سن کر) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ بیشک تم جانتے ہو کہ میں نے جو شرط قریش کے لوگوں سے ٹھہرائی تھی اب تم یا تو اس شرط پر قائم رہو یا میری پناہ واپس کر دو کیونکہ میں یہ پسند نہیں کرتا کہ عرب لوگ یہ خبر سنیں کہ میں نے جس شخص کو امان دی تھی اس کی امان توڑ دی گئی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تجھے تیری امان واپس کرتا ہوں اور اللہ عزوجل کی پناہ پر راضی ہوں اور نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمبھی ان دنوں مکہ ہی میں تھے۔ پس نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے مسلمانوں سے فرمایا:”مجھے تم لوگوں کی ہجرت کا مقام دکھلایا گیا وہاں کھجور کے درخت ہیں اور دونوں طرف پتھریلے میدان ہیں۔“یعنی مدینہ کے وہ دونوں پتھریلے میدان جن کو حرتین کہتے ہیں، جن مسلمانوں سے ہو سکا وہ مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے اور بہت سے وہ مسلمان بھی جو حبش کی طرف (اس سے پہلے) ہجرت کر چکے تھے، مدینہ ہی میں لوٹ آئے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی مدینہ جانے کی تیاری کی تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ان سے فرمایا:”تم ٹھہر جاؤ! مجھے امید ہے کہ مجھے بھی (ہجرت کی) اجازت ملے گی۔“سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ پر میرا باپ صدقے! کیا آپ کو یہ امید ہے؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ہاں۔“پس سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رک گئے اور اپنی دو اونٹنیوں کو، جو ان کے پاس تھیں، چار ماہ تک کیکر کے پتے کھلاتے رہے (اس سے اونٹ خوب تیز ہو جاتا ہے) عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک دن ہم ٹھیک دوپہر کے وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر میں بیٹھے تھے کہ ایک کہنے والے نے کہا کہ (دیکھو) رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمایسے وقت پر آئے جو آپصلی اللہ علیہ وسلمکے تشریف لانے کا وقت نہ تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرے ماں باپ آپصلی اللہ علیہ وسلمپر صدقے اللہ کی قسم! آپصلی اللہ علیہ وسلمجو اس وقت آئے ہیں تو ضرور کوئی بڑا کام ہے، پس رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمآ پہنچے اور (اندر آنے کی) اجازت مانگی۔ اجازت دی گئی تو آپصلی اللہ علیہ وسلماندر داخل ہوئے تو نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:”اپنے لوگوں سے کہو ذرا باہر جائیں۔“سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ پر میرا باپ صدقے، یہاں صرف آپ کے گھر والے ہی ہیں (یعنی عائشہ اور ان کی والدہ ام رومان رضی اللہ عنہا) نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے۔“تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! میں آپ کے ساتھ رہوں گا؟ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ہاں“تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! ان دونوں اونٹنیوں میں سے کوئی اونٹنی لے لیجئیے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اچھا (مگر میں) قیمت سے لوں گا۔“عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے جلدی سے دونوں کے سفر کا سامان تیار کیا اور ایک چمڑے کے تھیلے میں رکھا تو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے اپنا کمربند پھاڑا اور اس سے تھیلے کا منہ باندھا، (اسی وجہ سے) ان کا نام ذات النطاقین رکھا گیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ پھر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلماور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ دونوں (مکہ سے تین میل پر) ثور پہاڑ کی غار میں چلے گئے، پس وہاں یہ لوگ تین راتیں رہے۔ عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ جو جوان گھبرو بڑا چالاک ہوشیار تھے، رات کو غار میں جا کر ان کے پاس رہتا اور سحر کے وقت واپس چلا آتا اور صبح قریش کے لوگوں کے ساتھ کرتا جیسے رات مکہ ہی میں گزاری ہو اور پھر جتنی باتیں نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلماور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نقصان پہنچانے کی سنتا، وہ یاد رکھتا اور رات کا اندھیرا ہوتے ہی (غار پر آ کر) نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلماور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو سنا دیتا اور عامر بن فہیرہ جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام تھے، وہ ایک ایک دودھیل بکری گلے میں سے روکے رہتے (اس کا دودھ نہ نچوڑتے) جب ایک گھڑی رات گزر جاتی تو وہ بکری اس غار میں لے کر آتے اور دونوں صاحب تازہ اور گرم گرم دودھ پی کر رات بسر کرتے، یہاں تک کہ عامر بن فہیرہ اندھیرے ہی میں بکریوں کو آواز دینا شروع کرتے، تین راتیں برابر ایسا ہی کرتے رہے اور نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلماور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قبیلہ بنی الدیل، جو کہ بنی عبد بن عدی میں سے تھا۔ میں سے ایک شخص کو اجرت پر راہ بتلانے والا (خریت) ٹھہرایا، خریت اس شخص کو کہتے ہیں کہ جو راستہ بتلانے میں ماہر ہو۔ یہ شخص عاص بن وائل سہمی کے خاندان کا حلیف تھا (اس نے ہاتھ ڈبو کر ان کے ساتھ حلف کیا تھا) اور وہ کفار قریش کے دین پر تھا، پس (نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلماور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ) دونوں نے اس کو امین ٹھہرایا (بھروسہ کیا) اور اپنی اونٹنیاں اس کے حوالے کیں اور اس سے یہ وعدہ ٹھہرایا کہ وہ تین راتوں کے بعد اونٹنیاں لے کر غار ثور پر آ جائے، پس وہ (حسب وعدہ) تیسری (رات کی) صبح کو اونٹنیاں لے کر آیا اور آپ دونوں کے ساتھ عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ اور راستہ بتانے والا شخص روانہ ہوئے اور راستہ بتانے والے نے ساحل سمندر کا راستہ اختیار کیا۔ سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم المدلجی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس قریش کے کافروں کا ایک ایلچی آیا اور انھوں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلماور ابوبکر رضی اللہ عنہ میں سے ہر ایک کے قتل کرنے یا پکڑ لینے والے کے لیے دیت (یعنی سو اونٹوں) کا وعدہ کیا تھا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ میں بنی مدلج کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں ایک شخص انہی کی قوم کا آیا اور ہمارے سامنے کھڑا ہو گیا، ہم لوگ بیٹھے ہوئے تھے تو اس نے کہا کہ اے سراقہ! میں نے ابھی چند آدمیوں کو دیکھا جو ساحل کے راستے سے جا رہے تھے .... میں سمجھتا ہوں کہ وہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور ان کے ساتھی ہیں۔ سراقہ کہتے ہیں کہ میں (دل میں) پہچان گیا کہ یہ وہی لوگ ہوں گے لیکن اس سے میں نے کہا کہ یہ لوگ وہ (محمدصلی اللہ علیہ وسلماور ان کے ساتھی) نہیں ہیں لیکن تو نے فلاں اور فلاں اور فلاں کو دیکھا ہو گا جو ابھی ابھی ہمارے سامنے گئے ہیں، پھر میں گھڑی بھر اسی مجلس میں ٹھہرا رہا اور پھر اٹھ کر اپنے گھر گیا اور اپنی لونڈی سے کہا کہ تو میرا گھوڑا نکال اور ٹیلے کے پرے جا کر گھوڑے کو روکے رہ، میں نے اپنا نیزہ سنبھالا اور گھر کے پچھلے دروازے سے نیزہ کی بھال (نوک) کو زمین پر لگائے ہوئے (یا بھال سے زمین پر لکیر کرتے ہوئے) باہر نکلا اور نیزہ کا اوپر کا حصہ میں نے جھکا دیا اور اسی طرح اپنے گھوڑے کے پاس آیا اور اس پر سوار ہو گیا اور میں نے اسے دوڑایا تاکہ جلدی پہنچا دے۔ جب میں ان (نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلماور آپ کے ساتھیوں) کے قریب پہنچا تو میرے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور میں اس پر سے گر پڑا پھر میں اٹھ کر کھڑا ہوا اور ترکش کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اس میں سے تیر نکالے اور ان سے فال لی کہ کیا میں انھیں ضرر پہنچا سکوں گا یا نہیں تو وہ بات (میرے خلاف) نکلی جسے میں برا سمجھتا تھا، (لیکن اونٹوں کے لالچ میں) میں پھر اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور فال کے خلاف کیا، میرا گھوڑا مجھے لے کر (آپصلی اللہ علیہ وسلمکے) قریب پہنچ گیا، یہاں تک کہ میں نے آپصلی اللہ علیہ وسلمکے قرآن پڑھنے کی آواز سنی اور آپصلی اللہ علیہ وسلمادھر ادھر نہ دیکھتے تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ باربار ادھر ادھر دیکھ رہے تھے، اتنے میں میرے گھوڑے کے پاؤں زمین میں دھنس گئے یہاں تک کہ گھٹنوں تک زمین میں چھپ گئے اور میں اس کے اوپر سے گر پڑا، پھر میں نے اسے ڈانٹا تو وہ اٹھا مگر ایسی مشکل سے کہ اپنے ہاتھ زمین سے نہ نکال سکا، پھر جب وہ سیدھا کھڑا ہوا تو اس کے دونوں ہاتھوں (کے زمین کے باہر نکلنے کی وجہ) سے ایک گرد نکلی جو دھویں کی طرح آسمان میں پھیل گئی۔ میں نے پھر تیروں سے فال نکالی تو میری ناپسندیدہ بات نکلی (میرے خلاف نکلی) آخر میں نے انھیں امان (دینے) کے ساتھ پکارا تو وہ رک گئے، پس میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر ان کے پاس پہنچا اور جب مجھے ان تک پہنچنے میں یہ مصیبت پیش آئی تو میرے دل میں خیال آیا کہ عنقریب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکا کام (دین اسلام) غالب آ جائے گا پھر میں نے ان سے کہا کہ بیشک آپ کی قوم نے آپ کے بارہ میں دیت مقرر کی ہے اور میں نے وہ سب خبریں بیان کیں جو لوگ ان کے ساتھ چاہتے تھے اور میں نے ان کے سامنے زادراہ (کھانا) اور (سفر کا) سامان پیش کیا لیکن انھوں نے مجھ سے کچھ نہیں لیا اور نہ مجھ سے مانگا۔ صرف یہ کہا کہ ہمارا حال پوشیدہ رکھنا، پس میں نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمسے درخواست کی کہ میرے لئے امن کی ایک تحریر لکھ دیں تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے عامر بن فہیرہ کو حکم دیا، انہوں نے مجھے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر لکھ دیا اور پھر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمروانہ ہو گئے، (عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ) رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمزبیر اور مسلمانوں کے کئی سواروں سے ملے جو تاجر تھے اور شام کے ملک سے لوٹے آ رہے تھے، پس سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلماور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو سفید کپڑے پہنائے، ادھر مدینہ میں مسلمانوں نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے مکہ سے نکلنے کی خبر سنی تو وہ ہر روز صبح کو (مقام) حرہ تک آتے اور آپصلی اللہ علیہ وسلمکا انتظار کرتے رہتے۔ یہاں تک کہ دوپہر کی گرمی (کی شدت) انھیں واپس (ہونے پر مجبور) کر دیتی۔ ایک دن وہ بہت انتظار کے بعد واپس آئے، جب اپنے گھروں میں پہنچ گئے تو ایک یہودی اپنے کسی کام سے اپنے گھروں میں سے ایک گھر کی چھت پر چڑھا تو اس نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلماور آپ کے ساتھیوں کو سفید پوش (سفید کپڑے پہنے ہوئے) دیکھا کہ سراب ان سے چھپ گیا تھا (جتنا آپصلی اللہ علیہ وسلمنزدیک ہو رہے ہیں اتنی ہی دور سے پانی کی طرح ریت کا چمکنا کم ہوتا جاتا ہے) پس یہودی اپنے آپ کو بلند آواز سے یہ کہنے سے نہ روک سکا کہ اے گروہ عرب! یہ تمہارا سردار، جس کا تم انتظار کر رہے تھے (آ پہنچا) پس مسلمان اپنے ہتھیاروں کی طرف لپکے اور حرہ میں جا کر آپصلی اللہ علیہ وسلمسے ملے۔ پس آپصلی اللہ علیہ وسلمان کے ساتھ داہنی جانب مڑے یہاں تک کہ بنی عمرو بن عوف کے محلہ میں جا کر اترے اور یہ ربیع الاول کا مہینہ اور پیر کا دن تھا۔ پس سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں (سے ملنے) کے لیے کھڑے ہو گئے اور رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمخاموش بیٹھے رہے تو انصار کے کچھ لوگوں نے، جنہوں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو نہ دیکھا تھا وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ (کو نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمسمجھ کر انہی) کے پاس آتے یہاں تک کہ جب آپصلی اللہ علیہ وسلمپر دھوپ آنے لگی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور آپصلی اللہ علیہ وسلمپر اپنی چادر سے سایہ کر لیا۔ پھر اس وقت لوگ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو پہچان گئے، پس نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمدس سے کچھ اوپر راتوں تک بنی عمرو بن عوف میں رہے اور اس مسجد (قباء) کی بنیاد رکھی جس کی بنیاد تقویٰ (پرہیزگاری) پر رکھی گئی اور رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے اس میں نماز ادا فرمائی پھر اپنی سواری (اونٹنی) پر سوار ہو کر چلے اور لوگ آپصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ پیدل چل رہے تھے یہاں تک کہ مدینہ میں مسجدنبوی کے پاس جا کر (اونٹنی) بیٹھ گئی اور ان دونوں اس جگہ کچھ مسلمان نماز پڑھا کرتے تھے اور وہ زمین دو یتیم لڑکوں سہیل اور سہل کی تھی جو کہ اسعد بن زرارہ کی پرورش میں تھے پس جب اونٹنی بیٹھ گئی تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”انشاءاللہ یہی ہمارا (رہنے کا) مقام ہو گا۔“پھر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے دونوں لڑکوں (سہیل اور سہل) کو بلایا اور ان سے اس زمین (کھلیان) کی قیمت پوچھی تاکہ وہاں مسجد بنائی جائے، ان دونوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہم یہ زمین آپ کو ہبہ کرتے ہیں (قیمت نہ لیں گے) پس رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے بطور ہبہ (تحفہ) لینے سے انکار کر دیا بلکہ ان دونوں سے خرید لی پھر وہاں مسجد بنانا شروع کی اور اس کے بنانے کے لیے خود بھی سب لوگوں کے ہمراہ اینٹیں اٹھا اٹھا کر لے جاتے تھے اور فرماتے:”یہ بوجھ اٹھانا خیبر کا بوجھ اٹھانے سے بہتر ہے بلکہ اس کا اجر و ثواب اللہ کے یہاں باقی رہنے والا ہے اور اس میں بہت طہارت اور پاکی ہے۔“اور دعا فرماتے:”اے اللہ! بیشک (بہتر) فائدہ تو آخرت ہی کا ہے، پس تو انصار اور مہاجرین پر رحم فرما۔“[مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1593]
