حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيُّ الْقُرَشِيُّ الإِسْكَنْدَرَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ رِجَالاً، أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، وَقَدِ امْتَرَوْا فِي الْمِنْبَرِ مِمَّ عُودُهُ فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لأَعْرِفُ مِمَّا هُوَ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَوَّلَ يَوْمٍ وُضِعَ، وَأَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى فُلاَنَةَ ـ امْرَأَةٍ قَدْ سَمَّاهَا سَهْلٌ ـ " مُرِي غُلاَمَكِ النَّجَّارَ أَنْ يَعْمَلَ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ عَلَيْهِنَّ إِذَا كَلَّمْتُ النَّاسَ ". فَأَمَرَتْهُ فَعَمِلَهَا مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ ثُمَّ جَاءَ بِهَا، فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ بِهَا فَوُضِعَتْ هَا هُنَا، ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى عَلَيْهَا، وَكَبَّرَ وَهْوَ عَلَيْهَا، ثُمَّ رَكَعَ وَهْوَ عَلَيْهَا، ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى فَسَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ ثُمَّ عَادَ، فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا وَلِتَعَلَّمُوا صَلاَتِي ".
English Translation
Hadrat Sahl bin Sa'd al-Sa'idi (may Allah be well pleased with him) narrates that some men came to him disputing about what wood the pulpit was made of. He said: 'By Allah! I know well what it is made of. I saw it the first day it was placed and the first day the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) sat upon it. He sent a message to a certain woman — whom Hadrat Sahl named — saying: Tell your carpenter slave to make me wooden pieces upon which I can sit when I address the people. She ordered him and he made it from the tamarisk wood of the Ghabah forest and then brought it. She sent it to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). He ordered it and it was placed here. Then I saw him pray upon it — he said the Takbir on it, bowed on it, then came down backwards and prostrated at the base of the pulpit, then went back up. When he finished the prayer, he turned to the people and stated: O people! I did this so that you may follow my lead and learn my prayer.'
Urdu Translation
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ ان کے پاس آئے اور منبر کے بارے میں بحث کر رہے تھے کہ وہ کس لکڑی کا ہے۔ انہوں نے فرمایا: واللہ! میں خوب جانتا ہوں کہ وہ کس چیز کا ہے، میں نے وہ پہلا دن بھی دیکھا جب وہ رکھا گیا اور وہ پہلا دن بھی جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس پر بیٹھے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فلاں عورت — جن کا نام سہل نے لیا — کے پاس پیغام بھیجا: اپنے بڑھئی غلام سے کہو کہ میرے لیے لکڑی کا (ایسا ڈھانچا) بنائے جس پر بیٹھ کر میں لوگوں سے خطاب کروں۔ اس عورت نے حکم دیا تو غلام نے اسے غابہ کے جھاؤ سے بنایا پھر لے آیا۔ اس عورت نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، آپ نے حکم فرمایا اور وہ یہاں رکھا گیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ آپ نے اس پر نماز پڑھی، اس پر تکبیر کہی، اس پر رکوع فرمایا، پھر الٹے پاؤں اتر کر منبر کی تہ میں سجدہ فرمایا، پھر واپس اوپر تشریف لے گئے۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا: اے لوگو! میں نے یہ اس لیے کیا ہے تاکہ تم میری اقتداء کرو اور میری نماز سیکھو۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيُّ الْقُرَشِيُّ الإِسْكَنْدَرَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ رِجَالاً، أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، وَقَدِ امْتَرَوْا فِي الْمِنْبَرِ مِمَّ عُودُهُ فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لأَعْرِفُ مِمَّا هُوَ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَوَّلَ يَوْمٍ وُضِعَ، وَأَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى فُلاَنَةَ ـ امْرَأَةٍ قَدْ سَمَّاهَا سَهْلٌ ـ " مُرِي غُلاَمَكِ النَّجَّارَ أَنْ يَعْمَلَ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ عَلَيْهِنَّ إِذَا كَلَّمْتُ النَّاسَ ". فَأَمَرَتْهُ فَعَمِلَهَا مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ ثُمَّ جَاءَ بِهَا، فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ بِهَا فَوُضِعَتْ هَا هُنَا، ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى عَلَيْهَا، وَكَبَّرَ وَهْوَ عَلَيْهَا، ثُمَّ رَكَعَ وَهْوَ عَلَيْهَا، ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى فَسَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ ثُمَّ عَادَ، فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا وَلِتَعَلَّمُوا صَلاَتِي ".
Hadrat Sahl bin Sa'd al-Sa'idi (may Allah be well pleased with him) narrates that some men came to him disputing about what wood the pulpit was made of. He said: 'By Allah! I know well what it is made of. I saw it the first day it was placed and the first day the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) sat upon it. He sent a message to a certain woman — whom Hadrat Sahl named — saying: Tell your carpenter slave to make me wooden pieces upon which I can sit when I address the people. She ordered him and he made it from the tamarisk wood of the Ghabah forest and then brought it. She sent it to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). He ordered it and it was placed here. Then I saw him pray upon it — he said the Takbir on it, bowed on it, then came down backwards and prostrated at the base of the pulpit, then went back up. When he finished the prayer, he turned to the people and stated: O people! I did this so that you may follow my lead and learn my prayer.'
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ ان کے پاس آئے اور منبر کے بارے میں بحث کر رہے تھے کہ وہ کس لکڑی کا ہے۔ انہوں نے فرمایا: واللہ! میں خوب جانتا ہوں کہ وہ کس چیز کا ہے، میں نے وہ پہلا دن بھی دیکھا جب وہ رکھا گیا اور وہ پہلا دن بھی جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس پر بیٹھے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فلاں عورت — جن کا نام سہل نے لیا — کے پاس پیغام بھیجا: اپنے بڑھئی غلام سے کہو کہ میرے لیے لکڑی کا (ایسا ڈھانچا) بنائے جس پر بیٹھ کر میں لوگوں سے خطاب کروں۔ اس عورت نے حکم دیا تو غلام نے اسے غابہ کے جھاؤ سے بنایا پھر لے آیا۔ اس عورت نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، آپ نے حکم فرمایا اور وہ یہاں رکھا گیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ آپ نے اس پر نماز پڑھی، اس پر تکبیر کہی، اس پر رکوع فرمایا، پھر الٹے پاؤں اتر کر منبر کی تہ میں سجدہ فرمایا، پھر واپس اوپر تشریف لے گئے۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا: اے لوگو! میں نے یہ اس لیے کیا ہے تاکہ تم میری اقتداء کرو اور میری نماز سیکھو۔