Arabic (Original)
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَكَرِيَّاءَ الْغَسَّانِيُّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ " مَا تُشِيرُونَ عَلَىَّ فِي قَوْمٍ يَسُبُّونَ أَهْلِي مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِمْ مِنْ سُوءٍ قَطُّ ". وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ لَمَّا أُخْبِرَتْ عَا��ِشَةُ بِالأَمْرِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَنْطَلِقَ إِلَى أَهْلِي. فَأَذِنَ لَهَا وَأَرْسَلَ مَعَهَا الْغُلاَمَ. وَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لَنَا أَنْ نَتَكَلَّمَ بِهَذَا، سُبْحَانَكَ هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ.
English Translation
Muhammad bin Harb narrated to me, he said Yahya bin Abi Zakariyya al-Ghassani narrated to us, from Hisham, from Urwah, from Umm al-Mu'minin Hadrat A'ishah al-Siddiqah (may Allah be well pleased with her) who said: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) addressed the people, praised Allah the Exalted and glorified Him, and declared: "What do you advise me regarding people who slander my family? I have never known any evil about them." And it is narrated from Urwah that when Umm al-Mu'minin Hadrat A'ishah al-Siddiqah (may Allah be well pleased with her) was informed (of the revelation declaring her innocence), she submitted, "O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! Do you permit me to go to my parents' home?" He granted her permission and sent the servant with her. And a man from the Ansar said, "Glorified is Allah! It is not befitting for us to speak of such a thing. Glorified is Allah! This is a tremendous slander."
Urdu Translation
مجھ سے محمد بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن ابی زکریاء غسانی نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے عروہ نے اور ان سے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان فرمائی اور ارشاد فرمایا: "ان لوگوں کے بارے میں تم مجھے کیا مشورہ دیتے ہو جو میرے اہل کو گالی دیتے ہیں؟ میں نے ان پر کبھی برائی نہیں جانی۔" اور عروہ سے مروی ہے کہ جب حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو (وحی کے ذریعے برأت کی) خبر دی گئی تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں اپنے میکے جاؤں؟ آپ نے اجازت دی اور ان کے ساتھ غلام بھیجا۔ اور ایک انصاری نے کہا: سبحان اللہ! ہمارے لیے لائق نہیں کہ ہم ایسی بات کریں۔ سبحان اللہ! یہ بہت بڑا بہتان ہے۔
