Arabic (Original)
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَهْوَ مَرِيضٌ قُلْنَا أَصْلَحَكَ اللَّهُ حَدِّثْ بِحَدِيثٍ، يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهِ سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم. قَالَ دَعَانَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَبَايَعْنَاهُ فَقَالَ فِيمَا أَخَذَ عَلَيْنَا أَنْ بَايَعَنَا عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، فِي مَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا، وَعُسْرِنَا، وَيُسْرِنَا، وَأَثَرَةٍ عَلَيْنَا، وَأَنْ لاَ نُنَازِعَ الأَمْرَ أَهْلَهُ، إِلاَّ أَنْ تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا، عِنْدَكُمْ مِنَ اللَّهِ فِيهِ بُرْهَانٌ.
English Translation
Hadrat Junada bin Abi Umayya (may Allah be well pleased with him) narrates: 'We went to visit Hadrat Ubada bin al-Samit (may Allah be well pleased with him) during his illness and said: May Allah grant you health! Narrate to us a hadith that you heard from the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and by which Allah may benefit you.' He said: 'The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) summoned us and we gave him our pledge of allegiance. Among the conditions upon which he took our pledge was that we would listen and obey in times of enthusiasm and reluctance, in hardship and ease, and even when others were given preference over us; and that we would not contend with the rulers for authority — unless you see open disbelief for which you have clear proof from Allah.'
Urdu Translation
حضرت جنادہ بن ابی امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ان کی بیماری میں گئے اور عرض کیا: اللہ تعالیٰ آپ کو صحت عطا فرمائے، ہمیں کوئی ایسی حدیث بیان کیجیے جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہو اور اللہ تعالیٰ اس سے آپ کو نفع پہنچائے۔ انہوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بلایا اور ہم نے آپ کی بیعت کی۔ ان شرائط میں جو آپ نے ہم سے لیں، یہ بھی تھا کہ ہم نے خوشی اور ناخوشی میں، تنگی اور آسانی میں، اور اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیے جانے کے باوجود سمع و طاعت کی بیعت کی، اور یہ کہ ہم اہلِ اقتدار سے حکومت کے لیے نزاع نہیں کریں گے، سوائے اس کے کہ تم کھلا کفر دیکھو جس کے بارے میں تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل ہو۔
