Arabic (Original)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ رَجُلاً، عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَانَ اسْمُهُ عَبْدَ اللَّهِ، وَكَانَ يُلَقَّبُ حِمَارًا، وَكَانَ يُضْحِكُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَدْ جَلَدَهُ فِي الشَّرَابِ، فَأُتِيَ بِهِ يَوْمًا فَأَمَرَ بِهِ فَجُلِدَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ اللَّهُمَّ الْعَنْهُ مَا أَكْثَرَ مَا يُؤْتَى بِهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَلْعَنُوهُ، فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ أَنَّهُ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ".
English Translation
Yahya ibn Bukayr narrated to us, al-Layth narrated to me, he said: Khalid ibn Yazid narrated to me, from Sa'id ibn Abi Hilal, from Hadrat Zayd ibn Aslam, from his father, from 'Umar ibn al-Khattab (may Allah be well pleased with him), that there was a man in the time of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) whose name was 'Abd Allah, and his nickname was Himar (donkey). He used to make the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) laugh. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) had lashed him for drinking wine. One day he was brought again, and he ordered that he be lashed. A man among the people said: O Allah! Curse him! How often he is brought! The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Do not curse him! By Allah! I know that he loves Allah and His Messenger."
Urdu Translation
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، مجھ سے لیث نے بیان کیا، کہا: مجھ سے خالد بن یزید نے بیان کیا، انہوں نے سعید بن ابی ہلال سے، انہوں نے زید بن اسلم سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک شخص تھا جس کا نام عبداللہ تھا اور اس کا لقب حمار (گدھا) تھا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ہنساتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسے شراب پینے پر کوڑے لگائے تھے۔ ایک دن وہ (پھر) لایا گیا تو آپ نے حکم فرمایا اور اسے کوڑے لگائے گئے۔ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: اے اللہ! اس پر لعنت کر! کتنی بار لایا جاتا ہے! نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اس پر لعنت نہ کرو! اللہ کی قسم! مجھے معلوم ہے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔"
