Arabic (Original)
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ، قَالَ أُتِيَ بِالْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ وُلِدَ، فَوَضَعَهُ عَلَى فَخِذِهِ وَأَبُو أُسَيْدٍ جَالِسٌ، فَلَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِشَىْءٍ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَأَمَرَ أَبُو أُسَيْدٍ بِابْنِهِ فَاحْتُمِلَ مِنْ فَخِذِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَفَاقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَيْنَ الصَّبِيُّ ". فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ قَلَبْنَاهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " مَا اسْمُهُ ". قَالَ فُلاَنٌ. قَالَ " وَلَكِنْ أَسْمِهِ الْمُنْذِرَ ". فَسَمَّاهُ يَوْمَئِذٍ الْمُنْذِرَ.
English Translation
It is narrated by Hadrat Sahl that when Al-Mundhir bin Abu Usaid was born, he was brought to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) who placed him on his thigh. While Abu Usaid was sitting there, the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) was busy with something in his hands so Abu Usaid told someone to take his son from the thigh of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). When the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) finished his job (with which he was busy), he said, "Where is the boy?" Abu Usaid replied, "We have sent him home." the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, "What is his name?" Abu Usaid said, "(His name is) so-and-so. " the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, "No, his name is Al-Mundhir." So he called him Al-Mundhir from that day
Urdu Translation
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوغسان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا اور ان سے سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ منذر بن ابی اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت ہوئی تو انہیں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بچہ کو اپنی ران پر رکھ لیا۔ ابواسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیٹھے ہوئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کسی چیز میں جو سامنے تھی مصروف ہو گئے ( اور بچہ کی طرف توجہ ہٹ گئی ) ۔ ابواسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بچہ کے متعلق حکم دیا اور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ران سے اٹھا لیا گیا۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم متوجہ ہوئے تو فرمایا کہ بچہ کہاں ہے؟ ابواسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے اسے گھر بھیج دیا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اس کا نام کیا ہے؟ عرض کیا کہ فلاں۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، بلکہ اس کا نام منذر ہے۔ چنانچہ اسی دن نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا یہی نام منذر رکھا۔
