Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالَ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، ح وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي هِلاَلُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ بَيْنَمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي مَجْلِسٍ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ مَتَى السَّاعَةُ فَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُحَدِّثُ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ سَمِعَ مَا قَالَ، فَكَرِهَ مَا قَالَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ لَمْ يَسْمَعْ، حَتَّى إِذَا قَضَى حَدِيثَهُ قَالَ " أَيْنَ ـ أُرَاهُ ـ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ ". قَالَ هَا أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " فَإِذَا ضُيِّعَتِ الأَمَانَةُ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ ". قَالَ كَيْفَ إِضَاعَتُهَا قَالَ " إِذَا وُسِّدَ الأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ ".
English Translation
Hadrat Abu Hurayra (may Allah be well pleased with him) narrates that once the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) was conversing with the people in a gathering when a Bedouin came and submitted: When will the Hour come? The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) continued his discourse. Some people said: He heard what the man asked but did not approve of his question. Others said: Rather, he did not hear it. When he (blessings and peace of Allah be upon him) concluded his speech, he asked: Where is the one who inquired about the Hour? The man submitted: Here I am, O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! He (blessings and peace of Allah be upon him) declared: When trust is destroyed, then await the Hour. He submitted: How will it be destroyed? He (blessings and peace of Allah be upon him) declared: When authority is entrusted to those unfit for it, then await the Hour.
Urdu Translation
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مجلس میں لوگوں سے گفتگو فرما رہے تھے کہ ایک دیہاتی آیا اور عرض کرنے لگا: قیامت کب آئے گی؟ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنی گفتگو میں مصروف رہے۔ بعض لوگوں نے کہا: آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بات سنی مگر پسند نہیں فرمائی۔ بعض نے کہا: نہیں، بلکہ آپ نے سنی ہی نہیں۔ جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم گفتگو سے فارغ ہوئے تو ارشاد فرمایا: قیامت کے بارے میں پوچھنے والا کہاں ہے؟ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب امانت ضائع کر دی جائے تو قیامت کا انتظار کرو۔ اس نے عرض کیا: امانت کیسے ضائع ہو گی؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب حکومت کے کام نااہل لوگوں کے سپرد کر دیے جائیں تو قیامت کا انتظار کرو۔
