Arabic (Original)
وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، مَخْرَمَةَ قَالَ لَهُ يَا بُنَىَّ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَدِمَتْ عَلَيْهِ أَقْبِيَةٌ فَهْوَ يَقْسِمُهَا، فَاذْهَبْ بِنَا إِلَيْهِ، فَذَهَبْنَا فَوَجَدْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي مَنْزِلِهِ، فَقَالَ لِي يَا بُنَىَّ ادْعُ لِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَعْظَمْتُ ذَلِكَ. فَقُلْتُ أَدْعُو لَكَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا بُنَىَّ إِنَّهُ لَيْسَ بِجَبَّارٍ. فَدَعَوْتُهُ فَخَرَجَ وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْ دِيبَاجٍ مُزَرَّرٌ بِالذَّهَبِ، فَقَالَ " يَا مَخْرَمَةُ هَذَا خَبَأْنَاهُ لَكَ ". فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ.
English Translation
It is narrated by Hadrat Al-Miswar bin Makhrama that My father, Makhrama said to me, "I have come to know that some cloaks have come to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and he is distributing them. So O my son! take me to him." We went to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and found him in the house. My father said to me, "O my son! Call the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) for me." I found it hard to do so, so I said surprisingly, "Shall I call Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) for you ?" My father said, "O mu son! He is not a tyrant." So I called him and he came out wearing a Dibaj cloak having gold buttons, and said: "O Makhrama, I kept this for you." The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) then gave it to him
Urdu Translation
اور لیث بن سعد نے کہا کہ مجھ سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا، ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہ ان سے ان کے والد مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا بیٹے مجھے معلوم ہوا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ قبائیں آئی ہیں اور آپ انہیں تقسیم فرما رہے ہیں۔ ہمیں بھی نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے چلو۔ چنانچہ ہم گئے اور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو آپ کے گھر ہی میں پایا۔ والد نے مجھ سے کہا بیٹے میرا نام لے کر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو بلاؤ۔ میں نے اسے بہت بڑی توہین آمیز بات سمجھا ( کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے والد کے لیے بلا کر تکلیف دوں ) چنانچہ میں نے والد صاحب سے کہا کہ میں آپ کے لیے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو بلاؤں! انہوں نے کہا کہ بیٹے ہاں۔ آپ کوئی حضرت جابر صفت انسان نہیں ہیں۔ چنانچہ میں نے بلایا تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لے آئے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے اوپر دیبا کی ایک قباء تھی جس میں سونے کی گھنڈیاں لگی ہوئی تھیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مخرمہ اسے میں نے تمہارے لیے چھپا کے رکھا ہوا تھا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے وہ قباء انہیں عنایت فرما دی۔
