Arabic (Original)
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يُحَدِّثُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حِينَ تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ قَالَ عُمَرُ لَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ فَقُلْتُ إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ. فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ ثُمَّ خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْكَ فِيمَا عَرَضْتَ إِلاَّ أَنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ ذَكَرَهَا فَلَمْ أَكُنْ لأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَوْ تَرَكَهَا لَقَبِلْتُهَا. تَابَعَهُ يُونُسُ وَمُوسَى بْنُ عُقْبَةَ وَابْنُ أَبِي عَتِيقٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
English Translation
It is narrated by Hadrat `Abdullah bin `Umar that "When Hadrat Hafsa became a widow," `Umar said, "I met Hadrat Abu Bakr and said to him, 'If you wish I will marry Hadrat Hafsa bint `Umar to you.' I waited for a few days then Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) inquired for her hand. Later Hadrat Abu Bakr met me and said, 'Nothing stopped me from returning to you concerning your offer except that I knew that Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) had mentioned (his wish to marry) her, and I could never let out the secret of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him). If he had left her, I would have accepted her
Urdu Translation
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زھری نے، کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ میری بیٹی حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیوہ ہوئیں تو میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا اور ان سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کا نکاح عزیزہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کر دوں۔ پھر کچھ دنوں کے بعد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے نکاح کا پیغام بھیجا اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھ سے ملے اور کہا آپ نے جو صورت میرے سامنے رکھی تھی اس کا جواب میں نے صرف اس وجہ سے نہیں دیا تھا کہ مجھے معلوم تھا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ آپ کا راز کھولوں ہاں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم انہیں چھوڑ دیتے تو میں ان کو قبول کر لیتا۔ شعیب کے ساتھ اس حدیث کو یونس بن یزید اور موسیٰ بن عقبہ اور محمد بن ابی عتیق نے بھی زہری سے روایت کیا ہے۔
