It is narrated by Hadrat Ibn `Abbas that `Umar used to make me sit with the elderly men who had fought in the Battle of Badr. Some of them felt it (did not like that) and said to `Umar "Why do you bring in this boy to sit with us while we have sons like him?" `Umar replied, "Because of what you know of his position (i.e. his religious knowledge.)" One day `Umar called me and made me sit in the gathering of those people; and I think that he called me just to show them. (my religious knowledge). `Umar then asked them (in my presence). "What do you say about the interpretation of the Statement of Allah: 'When comes Help of Allah (to you O, Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) against your enemies) and the conquest (of Mecca).' (110.1) Some of them said, "We are ordered to praise Allah and ask for His forgiveness when Allah's Help and the conquest (of Mecca) comes to us." Some others kept quiet and did not say anything. On that, `Umar asked me, "Do you say the same, O Hadrat Ibn `Abbas?" I replied, "No." He said, 'What do you say then?" I replied, "That is the sign of the passing of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) which Allah informed him of. Allah said:-- '(O Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him)) When comes the Help of Allah (to you against your enemies) and the conquest (of Mecca) (which is the sign of your death). You should celebrate the praises of your Lord and ask for His Forgiveness, and He is the One Who accepts the repentance and forgives.' (110.3) On that `Umar said, "I do not know anything about it other than what you have said
Urdu Translation
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے حضرت ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھے بوڑھے بدری صحابہ کے ساتھ مجلس میں بٹھاتے تھے۔ بعض ( حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ) کو اس پر اعتراض ہوا، انہوں نے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ اسے آپ مجلس میں ہمارے ساتھ بٹھاتے ہیں، اس کے جیسے تو ہمارے بھی بچے ہیں؟ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اس کی وجہ تمہیں معلوم ہے۔ پھر انہوں نے ایک دن حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو بلایا اور انہیں بوڑھے بدری صحابہ کے ساتھ بٹھایا ( حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا کہ ) میں سمجھ گیا کہ آپ نے مجھے انہیں دکھانے کے لیے بلایا ہے، پھر ان سے پوچھا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے «إذا جاء نصر الله والفتح» الخ یعنی ”جب اللہ کی مدد اور فتح آ پہنچی“ بعض لوگوں نے کہا کہ جب ہمیں مدد اور فتح حاصل ہوئی تو اللہ کی حمد اور اس سے استغفار کا ہمیں آیت میں حکم دیا گیا ہے۔ کچھ لوگ خاموش رہے اور کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر آپ نے مجھ سے پوچھا: حضرت ابن عباس! کیا تمہارا بھی یہی خیال ہے؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ پوچھا پھر تمہاری کیا رائے ہے؟ میں نے عرض کی کہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا وصال کی طرف اشارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو یہی چیز بتائی ہے اور فرمایا «إذا جاء نصر الله والفتح» کہ ”جب اللہ کی مدد اور فتح آ پہنچی“ یعنی پھر یہ آپ کا وصال کی علامت ہے۔ اس لیے آپ اپنے پروردگار کی پاکی و تعریف بیان کیجئے اور اس سے بخشش مانگا کیجئے۔ بیشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس پر کہا میں بھی وہی جانتا ہوں جو تم نے کہا۔
كان عمر رضي الله عنه يدخلني مع أشياخ بدر، فكأن بعضهم وجد في نفسه فقال: لم يدخل هذا معنا ولنا أبناء مثله!؟ فقال عمر: إنه من حيث علمتم! فدعاني ذات يوم فأدخلني معهم، فما رأيت أنه دعانى يومئذ إلا ليريهم قال: ما ت…
It is narrated by Hadrat Ibn `Abbas that `Umar used to make me sit with the elderly men who had fought in the Battle of Badr. Some of them felt it (did not like that) and said to `Umar "Why do you bring in this boy to sit with us while we have sons like him?" `Umar replied, "Because of what you know of his position (i.e. his religious knowledge.)" One day `Umar called me and made me sit in the gathering of those people; and I think that he called me just to show them. (my religious knowledge). `Umar then asked them (in my presence). "What do you say about the interpretation of the Statement of Allah: 'When comes Help of Allah (to you O, Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) against your enemies) and the conquest (of Mecca).' (110.1) Some of them said, "We are ordered to praise Allah and ask for His forgiveness when Allah's Help and the conquest (of Mecca) comes to us." Some others kept quiet and did not say anything. On that, `Umar asked me, "Do you say the same, O Hadrat Ibn `Abbas?" I replied, "No." He said, 'What do you say then?" I replied, "That is the sign of the passing of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) which Allah informed him of. Allah said:-- '(O Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him)) When comes the Help of Allah (to you against your enemies) and the conquest (of Mecca) (which is the sign of your death). You should celebrate the praises of your Lord and ask for His Forgiveness, and He is the One Who accepts the repentance and forgives.' (110.3) On that `Umar said, "I do not know anything about it other than what you have said
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے حضرت ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھے بوڑھے بدری صحابہ کے ساتھ مجلس میں بٹھاتے تھے۔ بعض ( حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ) کو اس پر اعتراض ہوا، انہوں نے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ اسے آپ مجلس میں ہمارے ساتھ بٹھاتے ہیں، اس کے جیسے تو ہمارے بھی بچے ہیں؟ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اس کی وجہ تمہیں معلوم ہے۔ پھر انہوں نے ایک دن حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو بلایا اور انہیں بوڑھے بدری صحابہ کے ساتھ بٹھایا ( حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا کہ ) میں سمجھ گیا کہ آپ نے مجھے انہیں دکھانے کے لیے بلایا ہے، پھر ان سے پوچھا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے «إذا جاء نصر الله والفتح» الخ یعنی ”جب اللہ کی مدد اور فتح آ پہنچی“ بعض لوگوں نے کہا کہ جب ہمیں مدد اور فتح حاصل ہوئی تو اللہ کی حمد اور اس سے استغفار کا ہمیں آیت میں حکم دیا گیا ہے۔ کچھ لوگ خاموش رہے اور کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر آپ نے مجھ سے پوچھا: حضرت ابن عباس! کیا تمہارا بھی یہی خیال ہے؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ پوچھا پھر تمہاری کیا رائے ہے؟ میں نے عرض کی کہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا وصال کی طرف اشارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو یہی چیز بتائی ہے اور فرمایا «إذا جاء نصر الله والفتح» کہ ”جب اللہ کی مدد اور فتح آ پہنچی“ یعنی پھر یہ آپ کا وصال کی علامت ہے۔ اس لیے آپ اپنے پروردگار کی پاکی و تعریف بیان کیجئے اور اس سے بخشش مانگا کیجئے۔ بیشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس پر کہا میں بھی وہی جانتا ہوں جو تم نے کہا۔