Arabic (Original)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ قَالَ حِينَ وَقَعَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ ابْنِ الزُّبَيْرِ قُلْتُ أَبُوهُ الزُّبَيْرُ، وَأُمُّهُ أَسْمَاءُ، وَخَالَتُهُ عَائِشَةُ، وَجَدُّهُ أَبُو بَكْرٍ، وَجَدَّتُهُ صَفِيَّةُ. فَقُلْتُ لِسُفْيَانَ إِسْنَادُهُ. فَقَالَ حَدَّثَنَا، فَشَغَلَهُ إِنْسَانٌ وَلَمْ يَقُلِ ابْنُ جُرَيْجٍ.
English Translation
It is narrated by Hadrat Ibn Abi Mulaika that when there happened the disagreement between Ibn Az-Zubair and Hadrat Ibn `Abbas, I said (to the latter), "(Why don't you take the oath of allegiance to him as) his father is Az-Zubair, and his mother is Asma,' and his aunt is `Hadrat Aisha, and his maternal grandfather is Hadrat Abu Bakr, and his grandmother is Safiya?
Urdu Translation
ہم سے عبداللہ بن محمد بن جعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ جب میرا عبداللہ بن حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اختلاف ہو گیا تھا تو میں نے کہا کہ ان کے والد حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے، ان کی والدہ اسماء بنت حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں، ان کی خالہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں۔ ان کے نانا حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے اور ان کی دادی ( نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی پھوپھی ) صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں۔ ( عبداللہ بن محمد نے بیان کیا کہ ) میں نے سفیان ( ابن عیینہ ) سے پوچھا کہ اس روایت کی سند کیا ہے؟ تو انہوں نے کہنا شروع کیا «حدثنا» ہم سے حدیث بیان کی لیکن ابھی اتنا ہی کہنے پائے تھے کہ انہیں ایک دوسرے شخص نے دوسری باتوں میں لگا دیا اور ( راوی کا نام ) ابن جریج وہ نہ بیان کر سکے۔
