Arabic (Original)
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ يَوْمُ بُعَاثٍ يَوْمًا قَدَّمَهُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم، فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدِ افْتَرَقَ مَلَؤُهُمْ، وَقُتِّلَتْ سَرَوَاتُهُمْ وَجُرِّحُوا، قَدَّمَهُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم فِي دُخُولِهِمْ فِي الإِسْلاَمِ.
English Translation
It is narrated by Hadrat 'Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) that Allah caused the day of Buath to take place before the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was sent (as an Messenger ) so that when the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) reached Medina, those people had already divided (in different groups) and their chiefs had been killed or wounded. So Allah made that day precede the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) so that they (i.e. the Ansar) might embrace Islam
Urdu Translation
مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ بعاث کی لڑائی اللہ تعالیٰ نے ( مصلحت کی وجہ سے ) رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے برپا کرا دی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو یہاں انصار کی جماعت میں پھوٹ پڑی ہوئی تھی۔ ان کے سردار مارے جا چکے تھے یا زخمی ہو چکے تھے، اللہ تعالیٰ نے اس لڑائی کو اس لیے پہلے برپا کیا تھا کہ انصار اسلام میں داخل ہو جائیں۔
