Musaddad narrated to us, Yusuf ibn al-Majishun narrated to us, from Salih ibn Ibrahim ibn Hadrat 'Abd al-Rahman ibn 'Awf, from his father, from his grandfather (Hadrat ' Abd al-Rahman ibn 'Awf, may Allah be well pleased with him), who said: On the Day of Badr, I was standing in the ranks and looked to my right and left, only to find myself between two young boys from the Ansar. I wished I were between men sturdier than them. One of them nudged me and said: 'Uncle, do you know Abu Jahl?' I said: 'Yes, what do you want with him, nephew?' He said: 'I have been told that he insults the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). By Him in Whose hand is my soul, if I see him, my shadow shall not part from his shadow until one of us who is to die first is dead.' I was amazed at this. Then the other one nudged me and said the same. Before long, I saw Abu Jahl moving about among the people. I said: 'Look! That is your man whom you asked me about.' They both rushed at him with their swords and struck him until they killed him. Then they went to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and informed him. He stated: 'Which of you killed him?' Each of them said: 'I killed him.' He stated: 'Have you wiped your swords?' They said: 'No.' He looked at the two swords and stated: 'Both of you killed him.' He awarded his spoils to Hadrat Mu'adh ibn 'Amr ibn al-Jamuh. The two were Hadrat Mu'adh ibn 'Afra' and Hadrat Mu'adh ibn 'Amr ibn al-Jamuh.
Urdu Translation
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یوسف بن الماجشون نے بیان کیا، صالح بن ابراہیم بن حضرت عبدالرحمٰن بن عوف سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے اپنے دادا (حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے، انہوں نے فرمایا: غزوۂ بدر کے دن میں صف میں کھڑا ہوا تو میں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا تو دو کم عمر انصاری نوجوان میرے ساتھ تھے۔ میں نے تمنا کی کہ کاش! میں ان سے زیادہ طاقتور لوگوں کے درمیان ہوتا۔ ان میں سے ایک نے مجھے ہلکے سے ٹہوکا دیا اور کہا: چچا! کیا آپ ابو جہل کو پہچانتے ہیں؟ میں نے کہا: ہاں، تمہیں اس سے کیا کام ہے بھتیجے؟ اس نے کہا: مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو میرا سایہ اس کے سایے سے الگ نہیں ہو گا جب تک ہم دونوں میں سے جس کی موت پہلے آنی ہو وہ مر نہ جائے۔ مجھے اس پر تعجب ہوا۔ پھر دوسرے نے بھی ٹہوکا دیا اور ایسی ہی بات کہی۔ ابھی تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی کہ میں نے ابو جہل کو لوگوں میں چکر لگاتے دیکھا۔ میں نے کہا: دیکھو! یہی ہے تمہارا وہ آدمی جس کے بارے میں تم نے پوچھا تھا۔ وہ دونوں اپنی تلواریں لے کر اس پر ٹوٹ پڑے اور اسے مار مار کر قتل کر دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور بتایا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: تم دونوں میں سے کس نے اسے قتل کیا ہے؟ دونوں میں سے ہر ایک نے کہا: میں نے قتل کیا ہے۔ ارشاد فرمایا: کیا تم نے اپنی تلواریں صاف کی ہیں؟ دونوں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ نے تلواریں دیکھیں اور ارشاد فرمایا: تم دونوں نے اسے قتل کیا ہے۔ اور اس کا مالِ غنیمت (اسلاب) حضرت معاذ بن عمرو بن الجموح کو دے دیا۔ اور وہ دونوں حضرت معاذ بن عفراء اور حضرت معاذ بن عمرو بن الجموح تھے۔ محمد نے کہا: یوسف نے صالح سے اور ابراہیم نے اپنے والد حضرت عبدالرحمٰن بن عوف سے سنا۔
Musaddad narrated to us, Yusuf ibn al-Majishun narrated to us, from Salih ibn Ibrahim ibn Hadrat 'Abd al-Rahman ibn 'Awf, from his father, from his grandfather (Hadrat ' Abd al-Rahman ibn 'Awf, may Allah be well pleased with him), who said: On the Day of Badr, I was standing in the ranks and looked to my right and left, only to find myself between two young boys from the Ansar. I wished I were between men sturdier than them. One of them nudged me and said: 'Uncle, do you know Abu Jahl?' I said: 'Yes, what do you want with him, nephew?' He said: 'I have been told that he insults the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). By Him in Whose hand is my soul, if I see him, my shadow shall not part from his shadow until one of us who is to die first is dead.' I was amazed at this. Then the other one nudged me and said the same. Before long, I saw Abu Jahl moving about among the people. I said: 'Look! That is your man whom you asked me about.' They both rushed at him with their swords and struck him until they killed him. Then they went to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and informed him. He stated: 'Which of you killed him?' Each of them said: 'I killed him.' He stated: 'Have you wiped your swords?' They said: 'No.' He looked at the two swords and stated: 'Both of you killed him.' He awarded his spoils to Hadrat Mu'adh ibn 'Amr ibn al-Jamuh. The two were Hadrat Mu'adh ibn 'Afra' and Hadrat Mu'adh ibn 'Amr ibn al-Jamuh.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یوسف بن الماجشون نے بیان کیا، صالح بن ابراہیم بن حضرت عبدالرحمٰن بن عوف سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے اپنے دادا (حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے، انہوں نے فرمایا: غزوۂ بدر کے دن میں صف میں کھڑا ہوا تو میں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا تو دو کم عمر انصاری نوجوان میرے ساتھ تھے۔ میں نے تمنا کی کہ کاش! میں ان سے زیادہ طاقتور لوگوں کے درمیان ہوتا۔ ان میں سے ایک نے مجھے ہلکے سے ٹہوکا دیا اور کہا: چچا! کیا آپ ابو جہل کو پہچانتے ہیں؟ میں نے کہا: ہاں، تمہیں اس سے کیا کام ہے بھتیجے؟ اس نے کہا: مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو میرا سایہ اس کے سایے سے الگ نہیں ہو گا جب تک ہم دونوں میں سے جس کی موت پہلے آنی ہو وہ مر نہ جائے۔ مجھے اس پر تعجب ہوا۔ پھر دوسرے نے بھی ٹہوکا دیا اور ایسی ہی بات کہی۔ ابھی تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی کہ میں نے ابو جہل کو لوگوں میں چکر لگاتے دیکھا۔ میں نے کہا: دیکھو! یہی ہے تمہارا وہ آدمی جس کے بارے میں تم نے پوچھا تھا۔ وہ دونوں اپنی تلواریں لے کر اس پر ٹوٹ پڑے اور اسے مار مار کر قتل کر دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور بتایا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: تم دونوں میں سے کس نے اسے قتل کیا ہے؟ دونوں میں سے ہر ایک نے کہا: میں نے قتل کیا ہے۔ ارشاد فرمایا: کیا تم نے اپنی تلواریں صاف کی ہیں؟ دونوں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ نے تلواریں دیکھیں اور ارشاد فرمایا: تم دونوں نے اسے قتل کیا ہے۔ اور اس کا مالِ غنیمت (اسلاب) حضرت معاذ بن عمرو بن الجموح کو دے دیا۔ اور وہ دونوں حضرت معاذ بن عفراء اور حضرت معاذ بن عمرو بن الجموح تھے۔ محمد نے کہا: یوسف نے صالح سے اور ابراہیم نے اپنے والد حضرت عبدالرحمٰن بن عوف سے سنا۔