Arabic (Original)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الأَشْرَفِ، فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ ". قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " نَعَمْ ". قَالَ فَأَتَاهُ فَقَالَ إِنَّ هَذَا ـ يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ـ قَدْ عَنَّانَا وَسَأَلَنَا الصَّدَقَةَ، قَالَ وَأَيْضًا وَاللَّهِ قَالَ فَإِنَّا قَدِ اتَّبَعْنَاهُ فَنَكْرَهُ أَنْ نَدَعَهُ حَتَّى نَنْظُرَ إِلَى مَا يَصِيرُ أَمْرُهُ قَالَ فَلَمْ يَزَلْ يُكَلِّمُهُ حَتَّى اسْتَمْكَنَ مِنْهُ فَقَتَلَهُ.
English Translation
It is narrated by Hadrat Jabir bin Abdullah (may Allah be well pleased with them both) that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) declared: "Who will deal with Hadrat Ka'b bin al-Ashraf? He has caused harm to Allah and His Messenger." Muhammad bin Maslama (may Allah be well pleased with him) submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! Would you like me to kill him? He declared: "Yes." He states: He went to him and said: This man — meaning the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) — has burdened us and asks us for charity. He (Hadrat Ka'b) said: By Allah, there will be more of it! (Muhammad bin Maslama) said: We have followed him and do not wish to leave him until we see how his affair turns out. He states: He kept talking to him until he got hold of him and killed him.
Urdu Translation
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "کعب بن اشرف کا کام کون کرے گا؟ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دی ہے۔" محمد بن مسلمہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اسے قتل کروں؟ ارشاد فرمایا: "ہاں۔" فرماتے ہیں: وہ اس کے پاس گئے اور کہا: اس شخص — یعنی نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم — نے ہمیں تنگ کر رکھا ہے اور ہم سے صدقہ مانگتا ہے۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم ابھی اور بھی ہوگا! (محمد بن مسلمہ نے) کہا: ہم اس کے پیچھے ہو لیے ہیں، اب چھوڑنا نہیں چاہتے جب تک دیکھ نہ لیں اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔ فرماتے ہیں: وہ اس سے بات کرتے رہے یہاں تک کہ موقع ملا تو اسے قتل کر دیا۔
