Arabic (Original)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهْوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ، فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ، فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا، فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ فَأَبَوْا، فَأَخَذَهُ ثُمَّ شَدَّ عَلَى الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ، فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، وَأَبَى بَعْضٌ، فَلَمَّا أَدْرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ قَالَ " إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ ". وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ فِي الْحِمَارِ الْوَحْشِيِّ مِثْلُ حَدِيثِ أَبِي النَّضْرِ قَالَ " هَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَىْءٌ ".
English Translation
It is narrated by Hadrat Abu Qatada (may Allah be well pleased with him) that he was with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). When they were on the way to Makkah, he fell behind with some of his companions who were in the state of Ihram, while he himself was not in Ihram. He saw a wild donkey, mounted his horse, and asked his companions to hand him his whip, but they refused. Then he asked for his spear, but they refused. So he picked it up himself, charged at the donkey, and killed it. Some of the Companions of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) ate from it while others refused. When they reached the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), they asked him about it. He declared: "It is but a provision that Allah fed you." (In another narration) he asked: "Do you have any of its meat left?"
Urdu Translation
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے۔ جب مکہ کے راستے میں کسی جگہ پہنچے تو وہ اپنے کچھ محرم ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے جبکہ وہ خود بغیر احرام کے تھے۔ انہوں نے ایک جنگلی گدھا دیکھا تو اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے، ساتھیوں سے اپنا کوڑا مانگا لیکن انہوں نے انکار کر دیا، پھر نیزہ مانگا لیکن انہوں نے انکار کیا۔ تب انہوں نے خود (نیزہ) اٹھایا اور گدھے پر حملہ کر کے اسے شکار کر لیا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے بعض صحابہ نے اس میں سے کھایا اور بعض نے انکار کیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے ملے تو اس بارے میں دریافت کیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: "یہ تو ایک رزق ہے جو اللہ نے تمہیں کھلایا۔" اور (دوسری سند سے بھی اسی طرح مروی ہے کہ) آپ نے پوچھا: "کیا تمہارے پاس اس کا کچھ گوشت ہے؟"
