It is narrated by Hadrat Abu Huraira (may Allah be well pleased with him) that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'A horse may be a source of reward for one person, a means of shelter (livelihood) for another, and a burden of sin upon a third. As for the one for whom it is a source of reward, he is the one who ties it in the path of Allah and lets it graze in a meadow or garden. Whatever it eats from that meadow or garden will be recorded as good deeds for him. If its rope breaks and it gallops over a hill or two, its hoofprints and droppings will be recorded as good deeds for him. And if it passes by a river and drinks from it, even though he did not intend to water it, that too will be recorded as good deeds for him. Thus, such a horse is a source of reward. As for the second person, he ties the horse for self-sufficiency and to avoid begging from people, and he does not neglect Allah's right regarding its neck and back; such a horse is a means of shelter (dignity and honour) for him. As for the third person, he ties the horse out of pride, ostentation, and enmity against the people of Islam; such a horse is a burden of sin upon him.' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was asked about donkeys. He stated: 'Nothing specific has been revealed to me regarding them except this comprehensive and unique verse: Whoever does an atom's weight of good shall see it, and whoever does an atom's weight of evil shall see it.'
Urdu Translation
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: گھوڑا ایک شخص کے لیے باعثِ ثواب ہے، دوسرے کے لیے پردہ (ذریعہ معاش) ہے اور تیسرے کے لیے وبال ہے۔ جس کے لیے باعثِ ثواب ہے وہ وہ شخص ہے جو اسے اللہ کی راہ میں باندھے اور کسی سبزے والے میدان یا باغ میں چرائے۔ جتنا وہ اس میدان یا باغ میں سے کھائے گا وہ سب اس کی نیکیوں میں لکھا جائے گا۔ اگر اتفاق سے اس کی رسی ٹوٹ جائے اور وہ ایک دو ٹیلے پار کر لے تو اس کے نقوشِ قدم اور لید بھی مالک کی نیکیوں میں شمار ہوں گے۔ اگر وہ کسی نہر سے گزرے اور اس کا پانی پی لے، اگرچہ مالک نے اسے پلانے کا ارادہ نہ کیا ہو، تو یہ بھی اس کی نیکیوں میں لکھا جائے گا۔ پس اس نیت سے پالا جانے والا گھوڑا باعثِ اجر ہے۔ دوسرا شخص وہ ہے جو بے نیازی اور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچنے کے لیے گھوڑا پالے، پھر اس کی گردن اور پیٹھ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حق کو فراموش نہ کرے، تو یہ گھوڑا اس کے لیے پردہ (یعنی عزت و آبرو کا ذریعہ) ہے۔ تیسرا شخص وہ ہے جو فخر، ریاکاری اور اہلِ اسلام سے دشمنی کے لیے گھوڑا پالے، تو یہ اس کے لیے وبال ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے گدھوں کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھ پر ان کے بارے میں کوئی خاص حکم نازل نہیں ہوا سوائے اس جامع اور بے مثال آیت کے: «فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ» یعنی جو شخص ذرہ برابر بھی نیکی کرے گا اس کا بدلہ دیکھے گا اور جو ذرہ برابر بھی برائی کرے گا اس کا بدلہ دیکھے گا۔
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (11)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
Sahih al-Bukhari
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه و…
Sahih al-Bukhari
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ الل…
Sahih al-Bukhari
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله …
Sahih al-Bukhari
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى…
It is narrated by Hadrat Abu Huraira (may Allah be well pleased with him) that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'A horse may be a source of reward for one person, a means of shelter (livelihood) for another, and a burden of sin upon a third. As for the one for whom it is a source of reward, he is the one who ties it in the path of Allah and lets it graze in a meadow or garden. Whatever it eats from that meadow or garden will be recorded as good deeds for him. If its rope breaks and it gallops over a hill or two, its hoofprints and droppings will be recorded as good deeds for him. And if it passes by a river and drinks from it, even though he did not intend to water it, that too will be recorded as good deeds for him. Thus, such a horse is a source of reward. As for the second person, he ties the horse for self-sufficiency and to avoid begging from people, and he does not neglect Allah's right regarding its neck and back; such a horse is a means of shelter (dignity and honour) for him. As for the third person, he ties the horse out of pride, ostentation, and enmity against the people of Islam; such a horse is a burden of sin upon him.' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was asked about donkeys. He stated: 'Nothing specific has been revealed to me regarding them except this comprehensive and unique verse: Whoever does an atom's weight of good shall see it, and whoever does an atom's weight of evil shall see it.'
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: گھوڑا ایک شخص کے لیے باعثِ ثواب ہے، دوسرے کے لیے پردہ (ذریعہ معاش) ہے اور تیسرے کے لیے وبال ہے۔ جس کے لیے باعثِ ثواب ہے وہ وہ شخص ہے جو اسے اللہ کی راہ میں باندھے اور کسی سبزے والے میدان یا باغ میں چرائے۔ جتنا وہ اس میدان یا باغ میں سے کھائے گا وہ سب اس کی نیکیوں میں لکھا جائے گا۔ اگر اتفاق سے اس کی رسی ٹوٹ جائے اور وہ ایک دو ٹیلے پار کر لے تو اس کے نقوشِ قدم اور لید بھی مالک کی نیکیوں میں شمار ہوں گے۔ اگر وہ کسی نہر سے گزرے اور اس کا پانی پی لے، اگرچہ مالک نے اسے پلانے کا ارادہ نہ کیا ہو، تو یہ بھی اس کی نیکیوں میں لکھا جائے گا۔ پس اس نیت سے پالا جانے والا گھوڑا باعثِ اجر ہے۔ دوسرا شخص وہ ہے جو بے نیازی اور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچنے کے لیے گھوڑا پالے، پھر اس کی گردن اور پیٹھ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حق کو فراموش نہ کرے، تو یہ گھوڑا اس کے لیے پردہ (یعنی عزت و آبرو کا ذریعہ) ہے۔ تیسرا شخص وہ ہے جو فخر، ریاکاری اور اہلِ اسلام سے دشمنی کے لیے گھوڑا پالے، تو یہ اس کے لیے وبال ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے گدھوں کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھ پر ان کے بارے میں کوئی خاص حکم نازل نہیں ہوا سوائے اس جامع اور بے مثال آیت کے: «فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ» یعنی جو شخص ذرہ برابر بھی نیکی کرے گا اس کا بدلہ دیکھے گا اور جو ذرہ برابر بھی برائی کرے گا اس کا بدلہ دیکھے گا۔
حَدَّثنا أحمد بن عَبد الله السدوسي حَدَّثنا روح بن عبادة حَدَّثنا مالك عَن زيد بن أسلم عَن أبي صالح عَن أَبِي هُرَيرة عَن النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم قال الخيل ثلاثة ل…