Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ امْرَأَةً، سَوْدَاءَ جَاءَتْ، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْهُمَا، فَذَكَرَ لِلنَّبِيِّ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، وَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم. قَالَ " كَيْفَ وَقَدْ قِيلَ ". وَقَدْ كَانَتْ تَحْتَهُ ابْنَةُ أَبِي إِهَابٍ التَّمِيمِيِّ.
English Translation
It is narrated from Hadrat Uqba bin al-Harith (may Allah be well pleased with him) that a dark-complexioned woman came and claimed that she had suckled both of them (Uqba and his wife). This matter was submitted before the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), and he turned his blessed face away and smiled, then stated: How can (you remain together) when a claim of foster-kinship has been made? Hadrat Uqba (may Allah be well pleased with him) had married the daughter of Abu Ihab al-Tamimi.
Urdu Translation
حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ فام عورت آئی اور دعویٰ کیا کہ اس نے ان دونوں (عقبہ اور ان کی بیوی) کو دودھ پلایا ہے۔ یہ بات نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کی گئی تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے چہرۂ انور پھیر لیا اور تبسم فرمایا، پھر ارشاد فرمایا: اب (ساتھ رہنا) کیسے ہو سکتا ہے جب کہ (رضاعت کی) بات کہی جا چکی ہے؟ حضرت عقبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نکاح میں ابواہاب تمیمی کی صاحبزادی تھیں۔
