Arabic (Original)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا، كَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ لَيَالِيَ نَزَلَ الْجَيْشُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ فَقَالاَ لاَ يَضُرُّكَ أَنْ لاَ تَحُجَّ الْعَامَ، وَإِنَّا نَخَافُ أَنْ يُحَالَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْبَيْتِ. فَقَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ، فَنَحَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم هَدْيَهُ، وَحَلَقَ رَأْسَهُ، وَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ الْعُمْرَةَ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْطَلِقُ، فَإِنْ خُلِّيَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ طُفْتُ، وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا مَعَهُ. فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ " إِنَّمَا شَأْنُهُمَا وَاحِدٌ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَتِي ". فَلَمْ يَحِلَّ مِنْهُمَا حَتَّى حَلَّ يَوْمَ النَّحْرِ، وَأَهْدَى، وَكَانَ يَقُولُ لاَ يَحِلُّ حَتَّى يَطُوفَ طَوَافًا وَاحِدًا يَوْمَ يَدْخُلُ مَكَّةَ.
English Translation
It is narrated from Hadrat Nafi' that Ubaidullah bin Abdullah and Salim bin Abdullah spoke to Hadrat Abdullah bin Umar (may Allah be well pleased with them both) during the nights when the army besieged Hadrat Ibn al-Zubair (may Allah be well pleased with them both). They said: 'There is no harm if you do not perform Hajj this year; we fear that you may be prevented from reaching the House (of Allah).' Hadrat Ibn Umar (may Allah be well pleased with them both) replied: 'We set out with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and the disbelievers of the Quraysh prevented us from reaching the House of Allah. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) slaughtered his sacrificial animals and shaved his head.' He said: 'I make you witnesses that I have made Umrah obligatory upon myself. If Allah wills, I shall certainly go. If I am allowed to reach the House of Allah, I will perform Tawaf; and if I am prevented, I will do as the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) did when I was in his company.' So he assumed Ihram for Umrah from Dhul-Hulaifah. Then, after traveling for a while, he said: 'The matter of Hajj and Umrah is one and the same. I make you witnesses that I have made Hajj obligatory upon myself along with my Umrah.' He did not come out of Ihram from either until the Day of Sacrifice, and he offered his sacrifice. He used to say that one should not come out of Ihram until one has performed one Tawaf on the day of entering Makkah.
Urdu Translation
حضرت نافع سے روایت ہے کہ عبیداللہ بن عبداللہ اور سالم بن عبداللہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ان دنوں گفتگو کی جب (حجاج کی) فوج نے حضرت ابن حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما پر حملہ کیا، تو دونوں نے فرمایا: اگر آپ اس سال حج نہ بھی کریں تو کوئی حرج نہیں، ہمیں اندیشہ ہے کہ آپ کو بیت اللہ تک پہنچنے سے روک دیا جائے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے تھے تو کفارِ قریش نے ہمیں بیت اللہ تک پہنچنے سے روک دیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی قربانی نحر فرمائی اور سر منڈا لیا۔ فرمایا: میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ اپنے اوپر واجب کر لیا ہے، ان شاءاللہ میں ضرور جاؤں گا۔ اگر مجھے بیت اللہ تک پہنچنے کا موقع مل گیا تو طواف کروں گا، اور اگر مجھے روک دیا گیا تو میں بھی وہی کام کروں گا جو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کیا تھا جب میں آپ کے ساتھ موجود تھا۔ چنانچہ آپ نے ذوالحلیفہ سے عمرہ کا احرام باندھا، پھر تھوڑی دور چل کر فرمایا: حج اور عمرہ کا معاملہ ایک ہی ہے۔ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرے کے ساتھ حج بھی واجب کر لیا ہے۔ چنانچہ آپ نے دونوں سے یومِ نحر تک احرام نہیں کھولا اور قربانی بھی فرمائی۔ اور فرماتے تھے کہ مکہ میں داخل ہونے کے دن ایک طواف کیے بغیر احرام نہیں کھولنا چاہیے۔
