Arabic (Original)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ عَرَفَةَ، فَنَزَلَ الشِّعْبَ، فَبَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ، وَلَمْ يُسْبِغِ الْوُضُوءَ. فَقُلْتُ لَهُ الصَّلاَةُ. فَقَالَ " الصَّلاَةُ أَمَامَكَ ". فَجَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ، فَتَوَضَّأَ، فَأَسْبَغَ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَصَلَّى، وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا.
English Translation
It is narrated by Hadrat Usama bin Zaid (may Allah be well pleased with them both) that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) proceeded from 'Arafat and dismounted at the mountainous pass and then answered the call of nature and performed a light ablution. I submitted to him, '(Shall we offer) the prayer?' He stated, 'The prayer is ahead of you (i.e. at al-Muzdalifa).' When he came to al-Muzdalifa, he performed a thorough ablution. Then the Iqama for the prayer was pronounced and he offered the Maghrib prayer; and then every person made his camel kneel at his place; and then the Iqama for the prayer was pronounced and he offered the ('Isha') prayer, and he did not offer any prayer in between them (i.e. Maghrib and 'Isha' prayers).
Urdu Translation
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بیان کیا، انہیں موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی، انہیں کریب نے، انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو یہ فرماتے سنا کہ میدان عرفات سے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم روانہ ہو کر گھاٹی میں اترے (جو مزدلفہ کے قریب ہے) وہاں قضائے حاجت فرمائی، پھر وضو فرمایا اور پورا وضو نہیں فرمایا (خوب پانی نہیں بہایا بلکہ ہلکا وضو فرمایا) میں نے نماز کے متعلق عرض کی تو ارشاد فرمایا کہ نماز آگے ہے۔ اب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ تشریف لائے، وہاں پھر وضو فرمایا اور پوری طرح فرمایا، پھر نماز کی تکبیر کہی گئی اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مغرب کی نماز ادا فرمائی، پھر ہر شخص نے اپنے اونٹ ڈیروں پر بٹھا دیئے، پھر دوبارہ نماز عشاء کے لیے تکبیر کہی گئی اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے نماز ادا فرمائی، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی (سنت یا نفل) نماز نہیں پڑھی تھی۔
