Hadrat Nafi' narrated that Hadrat Ibn Umar (may Allah be well pleased with them both) intended to perform Hajj in the year when al-Hajjaj attacked Hadrat Ibn al-Zubayr (may Allah be well pleased with them both). He was told, 'There is a danger of fighting among the people, and we fear they may prevent you from Hajj.' He replied, '"Verily, in the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) you have an excellent example." In such a situation I shall do as the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) did. I make you witness that I have made Umra obligatory upon myself.' Then he set out, and when he reached the open plain of al-Bayda', he said, 'The rites of Hajj and Umra are one and the same. I make you witness that I have made Hajj obligatory upon myself along with my Umra.' He took along a sacrificial animal purchased at Qudayd and did nothing more. He did not slaughter, did not permit himself anything from which he had refrained (due to Ihram), did not shave his head, and did not trim his hair until the Day of Sacrifice (10th Dhul-Hijjah). On that day he sacrificed his animal and shaved his head. He considered that his first Tawaf sufficed for both the Hajj and the Umra. Hadrat Ibn Umar (may Allah be well pleased with them both) stated, 'The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) did likewise.'
Urdu Translation
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے نافع سے بیان کیا کہ جس سال حجاج حضرت عبداللہ بن حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے مقابلے میں لڑنے آیا تھا، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے جب اس سال حج کا ارادہ فرمایا تو آپ سے کہا گیا کہ مسلمانوں میں باہم جنگ ہونے والی ہے اور یہ بھی خطرہ ہے کہ آپ کو حج سے روک دیا جائے۔ آپ نے فرمایا کہ تمہارے لیے رسول اللہ (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ ایسے وقت میں میں بھی وہی کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔ تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر عمرہ واجب کر لیا ہے۔ پھر آپ تشریف لے گئے اور جب بیداء کے میدان میں پہنچے تو فرمایا کہ حج اور عمرہ تو ایک ہی طرح کے ہیں، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج بھی واجب کر لیا ہے۔ آپ نے ایک قربانی بھی ساتھ لے لی جو مقامِ قدید سے خریدی تھی۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں فرمایا۔ دسویں تاریخ سے پہلے نہ آپ نے قربانی کی، نہ کسی ایسی چیز کو اپنے لیے جائز فرمایا جس سے (احرام کی وجہ سے) رکے ہوئے تھے، نہ سر منڈوایا نہ بال ترشوائے۔ دسویں تاریخ میں آپ نے قربانی کی اور بال منڈوائے۔ آپ کا یہی خیال تھا کہ آپ نے ایک طواف سے حج اور عمرہ دونوں کا طواف ادا فرما لیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اسی طرح فرمایا تھا۔
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (7)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
Sahih al-Bukhari
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ الْحَجَّ عَامَ حَج…
Hadrat Nafi' narrated that Hadrat Ibn Umar (may Allah be well pleased with them both) intended to perform Hajj in the year when al-Hajjaj attacked Hadrat Ibn al-Zubayr (may Allah be well pleased with them both). He was told, 'There is a danger of fighting among the people, and we fear they may prevent you from Hajj.' He replied, '"Verily, in the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) you have an excellent example." In such a situation I shall do as the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) did. I make you witness that I have made Umra obligatory upon myself.' Then he set out, and when he reached the open plain of al-Bayda', he said, 'The rites of Hajj and Umra are one and the same. I make you witness that I have made Hajj obligatory upon myself along with my Umra.' He took along a sacrificial animal purchased at Qudayd and did nothing more. He did not slaughter, did not permit himself anything from which he had refrained (due to Ihram), did not shave his head, and did not trim his hair until the Day of Sacrifice (10th Dhul-Hijjah). On that day he sacrificed his animal and shaved his head. He considered that his first Tawaf sufficed for both the Hajj and the Umra. Hadrat Ibn Umar (may Allah be well pleased with them both) stated, 'The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) did likewise.'
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے نافع سے بیان کیا کہ جس سال حجاج حضرت عبداللہ بن حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے مقابلے میں لڑنے آیا تھا، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے جب اس سال حج کا ارادہ فرمایا تو آپ سے کہا گیا کہ مسلمانوں میں باہم جنگ ہونے والی ہے اور یہ بھی خطرہ ہے کہ آپ کو حج سے روک دیا جائے۔ آپ نے فرمایا کہ تمہارے لیے رسول اللہ (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ ایسے وقت میں میں بھی وہی کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔ تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر عمرہ واجب کر لیا ہے۔ پھر آپ تشریف لے گئے اور جب بیداء کے میدان میں پہنچے تو فرمایا کہ حج اور عمرہ تو ایک ہی طرح کے ہیں، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج بھی واجب کر لیا ہے۔ آپ نے ایک قربانی بھی ساتھ لے لی جو مقامِ قدید سے خریدی تھی۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں فرمایا۔ دسویں تاریخ سے پہلے نہ آپ نے قربانی کی، نہ کسی ایسی چیز کو اپنے لیے جائز فرمایا جس سے (احرام کی وجہ سے) رکے ہوئے تھے، نہ سر منڈوایا نہ بال ترشوائے۔ دسویں تاریخ میں آپ نے قربانی کی اور بال منڈوائے۔ آپ کا یہی خیال تھا کہ آپ نے ایک طواف سے حج اور عمرہ دونوں کا طواف ادا فرما لیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اسی طرح فرمایا تھا۔