Arabic (Original)
حَدَّثنا أَبُو كُرَيب قَال حَدَّثنا عَبد الْحَمِيدِ أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ عَنِ الأَعمَش عَن شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ عَبد الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ أَبِي الدَّرْدَاءِ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ أَيْنَ تَرَكْتَ أبا ذر فقال أَبُو الدرداء إنا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ لَوْ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ قَطَعَ مِنِّي عُضْوًا مَا هِجْتُهُ لِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم يَقُولُ فِيهِوَهَذَا الْحَدِيثُ لاَ نعلمُهُ يُرْوَى عَن أَبِي الدَّرْدَاءِ مِنْ وَجْهٍ أَحْسَنَ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ولاَ نَعْلَمُ لَهُ طَرِيقًا أعز منه الدَّرْدَاءِ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ أَيْنَ تَرَكْتَ أبا ذر فقال أَبُو الدرداء إنا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ لَوْ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ قَطَعَ مِنِّي عُضْوًا مَا هِجْتُهُ لِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم يَقُولُ فِيهِوَهَذَا الْحَدِيثُ لاَ نعلمُهُ يُرْوَى عَن أَبِي الدَّرْدَاءِ مِنْ وَجْهٍ أَحْسَنَ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ولاَ نَعْلَمُ لَهُ طَرِيقًا أعز منه
English Translation
Hadrat Abd ar-Rahman ibn Ghanm narrated: I was with Abu ad-Darda when a man from the people of Madinah entered and asked him. He said: "Where have you left Abu Dharr?" Abu ad-Darda said: "Indeed to Allah we belong and to Him we shall return. Even if Abu Dharr were to sever a limb of mine, I would not reproach him because of what I heard from the Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) saying about him." This hadith is not known to be narrated from Abu ad-Darda from any route better than this chain.
Urdu Translation
حضرت عبدالرحمن بن غنم سے روایت ہے: میں ابو الدرداء کے پاس تھا کہ اہل مدینہ میں سے ایک آدمی آیا اور ان سے پوچھا۔ اس نے کہا: آپ نے ابو ذر کو کہاں چھوڑا؟ ابو الدرداء نے کہا: بے شک ہم اللہ کے لیے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اگر ابو ذر میرا کوئی عضو کاٹ ڈالیں تو بھی میں انہیں برا نہیں کہوں گا اس کی وجہ سے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے ان کے بارے میں سنا۔ یہ حدیث ابو الدرداء سے اس سند سے بہتر کسی طریق سے معلوم نہیں۔
