Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ مِخْرَاقٍ قَالَ: حَدَّثَنِي طَيْسَلَةُ بْنُ مَيَّاسٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّجَدَاتِ، فَأَصَبْتُ ذُنُوبًا لاَ أَرَاهَا إِلاَّ مِنَ الْكَبَائِرِ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِابْنِ عُمَرَ قَالَ: مَا هِيَ؟ قُلْتُ: كَذَا وَكَذَا، قَالَ: لَيْسَتْ هَذِهِ مِنَ الْكَبَائِرِ، هُنَّ تِسْعٌ: الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَقَتْلُ نَسَمَةٍ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَةِ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَإِلْحَادٌ فِي الْمَسْجِدِ، وَالَّذِي يَسْتَسْخِرُ، وَبُكَاءُ الْوَالِدَيْنِ مِنَ الْعُقُوقِ. قَالَ لِي ابْنُ عُمَرَ: أَتَفْرَقُ النَّارَ، وَتُحِبُّ أَنْ تَدْخُلَ الْجَنَّةَ؟ قُلْتُ: إِي وَاللَّهِ، قَالَ: أَحَيٌّ وَالِدُكَ؟ قُلْتُ: عِنْدِي أُمِّي، قَالَ: فَوَاللَّهِ لَوْ أَلَنْتَ لَهَا الْكَلاَمَ، وَأَطْعَمْتَهَا الطَّعَامَ، لَتَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مَا اجْتَنَبْتَ الْكَبَائِرَ.
English Translation
Taysala ibn Mayyas said, "I was with the Najadites when I committed wrong actions which I supposed were major wrong actions. I mentioned that to Hadrat Ibn 'Umar. He inquired, 'What are they?" I replied, 'Such-and-such.' He stated, 'These are not major wrong actions. There are nine major wrong actions. They are:associating others with Allah, killing someone, desertion from the army when it is advancing, slandering a chaste woman, usury, consuming an orphan's property, heresy in the mosque, scoffing, and causing one's parents to weep through disobedience.' Hadrat Ibn 'Umar then said to me, 'Do you wish to separate yourself from the Fire? Would you like to enter Paradise?' 'By Allah, yes!' I replied. He asked, 'Are your parents still alive?' I replied, 'My mother is.' He said, 'By Allah, if you speak gently to her and feed her, then you will enter the Garden as long as you avoid the major wrong actions.'"
Urdu Translation
حضرت تیسلہ بن میاس فرماتے ہیں کہ میں نجدات (خوارج) کے ساتھ تھا جب میں نے ایسے گناہ کیے جن کو میں کبیرہ گناہ سمجھتا تھا۔ میں نے یہ بات حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ذکر کی۔ انہوں نے پوچھا: وہ کیا ہیں؟ میں نے کہا: فلاں فلاں۔ فرمایا: یہ کبیرہ گناہ نہیں ہیں۔ کبیرہ گناہ نو ہیں: اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، کسی کو قتل کرنا، لشکر سے بھاگنا، پاکدامن عورت پر تہمت لگانا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، مسجد میں بدعت کرنا، تمسخر کرنا، اور نافرمانی سے والدین کو رلانا۔ پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے مجھ سے فرمایا: کیا تم آگ سے بچنا چاہتے ہو؟ کیا تم جنت میں داخل ہونا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: بخدا ہاں! فرمایا: کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟ میں نے کہا: میری ماں زندہ ہیں۔ فرمایا: بخدا، اگر تم ان سے نرمی سے بات کرو اور انہیں کھانا کھلاؤ تو تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے بچو۔
