Arabic (Original)
حَدَّثَنَا عَارِمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ الطُّفَيْلَ بْنَ عَمْرٍو قَالَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم: هَلْ لَكَ فِي حِصْنٍ وَمَنَعَةٍ، حِصْنِ دَوْسٍ؟ قَالَ: فَأَبَى رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم، لِمَا ذَخَرَ اللَّهُ لِلأَنْصَارِ، فَهَاجَرَ الطُّفَيْلُ، وَهَاجَرَ مَعَهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ، فَمَرِضَ الرَّجُلُ فَضَجِرَ أَوْ كَلِمَةٌ شَبِيهَةٌ بِهَا، فَحَبَا إِلَى قَرْنٍ، فَأَخَذَ مِشْقَصًا فَقَطَعَ وَدَجَيْهِ فَمَاتَ، فَرَآهُ الطُّفَيْلُ فِي الْمَنَامِ قَالَ: مَا فُعِلَ بِكَ؟ قَالَ: غُفِرَ لِي بِهِجْرَتِي إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، قَالَ: مَا شَأْنُ يَدَيْكَ؟ قَالَ: فَقِيلَ: إِنَّا لاَ نُصْلِحُ مِنْكَ مَا أَفْسَدْتَ مِنْ يَدَيْكَ، قَالَ: فَقَصَّهَا الطُّفَيْلُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، فَقَالَ: اللَّهُمَّ وَلِيَدَيْهِ فَاغْفِرْ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ.
English Translation
Hadrat Jabir ibn Hadrat 'Abdullah reported that at-Tufayl ibn 'Amr asked the Prophet "Do you want a fortress and a citadel? The fortress of Daws." The Beloved Messenger of Allah refused it because of what Allah had stored up for the Ansar. At-Tufayl made hijra and a man of his people made hijra with him. The man fell ill and was in torment (or words to that effect) and he crawled over to a quiver, took out an arrow, sliced his veins and died. At-Tufayl saw him a dream and asked him, "What has been done to you?" He replied, "I was forgiven because of my hijra to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) ." He asked, "What happened to your hands?" He replied, "It was said, 'We will not put right in you that part of your hands which you destroyed.'" He said that at-Tufayl related that tot he Prophet and the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, "O Allah, forgive his hands!" and he raised his hands when he said it.
Urdu Translation
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت طفیل بن عمرو نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: 'کیا آپ ایک قلعہ اور حصار چاہتے ہیں؟ یہ دوس کا قلعہ ہے۔' رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انکار فرمایا کیونکہ اللہ نے انصار کے لیے (یہ خدمت) محفوظ رکھی تھی۔ حضرت طفیل نے ہجرت کی اور ان کی قوم کا ایک آدمی بھی ان کے ساتھ ہجرت کر گیا۔ وہ بیمار ہوا اور تکلیف میں مبتلا ہوا، اس نے ایک ترکش کی طرف رینگ کر تیر نکالا اور اپنی رگیں کاٹ لیں اور مر گیا۔ حضرت طفیل نے اسے خواب میں دیکھا اور پوچھا: تمہارے ساتھ کیا ہوا؟ اس نے کہا: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی طرف میری ہجرت کی وجہ سے مجھے معاف کر دیا گیا۔ پوچھا: تمہارے ہاتھوں کو کیا ہوا؟ اس نے کہا: مجھ سے کہا گیا: ہم تمہارے وہ حصے درست نہیں کریں گے جو تم نے خود تباہ کیے۔ حضرت طفیل نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو بتائی۔ آپ نے دعا فرمائی: 'اے اللہ! اس کے ہاتھوں کو بخش دے!' اور یہ فرماتے ہوئے ہاتھ اٹھائے۔
