Arabic (Original)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، أَنَّ أَبَا عُثْمَانَ، حَدَّثَهُ عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ كَانَ رَجُلٌ لاَ أَعْلَمُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ مِمَّنْ يُصَلِّي الْقِبْلَةَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَبْعَدَ مَنْزِلاً مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ وَكَانَ لاَ تُخْطِئُهُ صَلاَةٌ فِي الْمَسْجِدِ فَقُلْتُ لَوِ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا تَرْكَبُهُ فِي الرَّمْضَاءِ وَالظُّلْمَةِ . فَقَالَ مَا أُحِبُّ أَنَّ مَنْزِلِي إِلَى جَنْبِ الْمَسْجِدِ فَنُمِيَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ عَنْ قَوْلِهِ ذَلِكَ فَقَالَ أَرَدْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يُكْتَبَ لِي إِقْبَالِي إِلَى الْمَسْجِدِ وَرُجُوعِي إِلَى أَهْلِي إِذَا رَجَعْتُ . فَقَالَ " أَعْطَاكَ اللَّهُ ذَلِكَ كُلَّهُ أَنْطَاكَ اللَّهُ جَلَّ وَعَزَّ مَا احْتَسَبْتَ كُلَّهُ أَجْمَعَ " .
English Translation
Hadrat Ubayy ibn Ka'b (may Allah be well pleased with him) narrates: 'There was a man — I do not know anyone among the people of Madinah who prayed facing the qiblah whose house was farther from the mosque than his — yet he never missed a prayer in the mosque. I said to him: "If only you bought a donkey to ride in the heat and the dark." He said: "I would not like my house to be right next to the mosque." This was conveyed to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), who asked him about what he had said. He replied: "O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! I intended that my coming to the mosque and returning to my family be recorded (as reward) for me." He (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Allah has given you all of that. Allah, the Mighty and Glorious, has given you everything that you hoped for — all of it entirely."'
Urdu Translation
حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ایک شخص تھا — میں نہیں جانتا کہ مدینے کے قبلہ رخ نماز پڑھنے والوں میں اس سے زیادہ دور گھر والا کوئی ہو — اور اس کی کوئی نماز مسجد میں فوت نہ ہوتی تھی۔ میں نے کہا: کاش تم ایک گدھا خرید لو جس پر گرمی اور اندھیرے میں سواری کرو۔ اس نے کہا: مجھے پسند نہیں کہ میرا گھر مسجد کے برابر میں ہو۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اس کی بات پوچھی۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا ارادہ یہ تھا کہ مسجد تک آنے اور گھر واپس جانے (کے قدموں) کا ثواب میرے لیے لکھا جائے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ نے تمہیں یہ سب دے دیا۔ اللہ عزوجل نے جتنا تم نے امید رکھی وہ سب کا سب تمہیں عطا فرما دیا۔
