Arabic (Original)
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ السَّرْخَسِيُّ، أَنَّ أَبَا عَامِرٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِلاَلٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَحِلُّ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَهْجُرَ مُؤْمِنًا فَوْقَ ثَلاَثٍ فَإِنْ مَرَّتْ بِهِ ثَلاَثٌ فَلْيَلْقَهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ فَإِنْ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ فَقَدِ اشْتَرَكَا فِي الأَجْرِ وَإِنْ لَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ فَقَدْ بَاءَ بِالإِثْمِ " . زَادَ أَحْمَدُ " وَخَرَجَ الْمُسَلِّمُ مِنَ الْهِجْرَةِ " .
English Translation
It is narrated by Hadrat AbuHurayrah that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: It is not allowable for a believer to keep from a believer for more than three days. If three days pass, he should meet him and give him a salutation, and if he replies to it they will both have shared in the reward; but if he does not reply he will bear his sin (according to Ahmad's version) and the one who gives the salutation will have come forth from the sin of keeping apart
Urdu Translation
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی مومن کے لیے درست نہیں کہ وہ کسی مومن کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے، اگر اس پر تین دن گزر جائیں تو وہ اس سے ملے اور اس کو سلام کرے، اب اگر وہ سلام کا جواب دیتا ہے، تو وہ دونوں اجر میں شریک ہیں اور اگر وہ جواب نہیں دیتا تو وہ گنہگار ہوا، اور سلام کرنے والا قطع تعلق کے گناہ سے نکل گیا ۔
