Arabic (Original)
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، : أَنَّهَا ذَكَرَتِ النَّارَ فَبَكَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " مَا يُبْكِيكِ " . قَالَتْ : ذَكَرْتُ النَّارَ فَبَكَيْتُ، فَهَلْ تَذْكُرُونَ أَهْلِيكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " أَمَّا فِي ثَلاَثَةِ مَوَاطِنَ فَلاَ يَذْكُرُ أَحَدٌ أَحَدًا : عِنْدَ الْمِيزَانِ حَتَّى يَعْلَمَ أَيَخِفُّ مِيزَانُهُ أَوْ يَثْقُلُ، وَعِنْدَ الْكِتَابِ حِينَ يُقَالُ { هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ } حَتَّى يَعْلَمَ أَيْنَ يَقَعُ كِتَابُهُ أَفِي يَمِينِهِ أَمْ فِي شِمَالِهِ أَمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ، وَعِنْدَ الصِّرَاطِ إِذَا وُضِعَ بَيْنَ ظَهْرَىْ جَهَنَّمَ " . قَالَ يَعْقُوبُ : عَنْ يُونُسَ وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِهِ .
English Translation
Umm al-Mu'minin Hadrat 'A'ishah al-Siddiqah (may Allah be well pleased with her) narrates: She mentioned the Fire and wept. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: What makes you weep? She submitted: I remembered the Fire and wept — will you remember your family on the Day of Resurrection? The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: At three places no one shall remember anyone: at the Scale — until one knows whether his scale is light or heavy; at the time of the Book (of Deeds) when it is said (take, read your record); and at the Bridge (al-Sirat).
Urdu Translation
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: انہوں نے آگ کا ذکر کیا اور رو پڑیں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کس نے رلایا؟ عرض کیا: مجھے آگ یاد آئی اور میں رو پڑی — کیا آپ قیامت کے دن اپنے گھر والوں کو یاد فرمائیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین مقامات پر کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا: میزان کے پاس — جب تک اسے معلوم نہ ہو جائے کہ اس کا پلڑا ہلکا ہے یا بھاری، اور نامہ اعمال کے وقت جب کہا جائے گا (لو اپنا نامہ اعمال پڑھو)، اور پُل صراط کے پاس۔
