Arabic (Original)
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، وَأَبُو عَامِرٍ - وَهَذَا لَفْظُ أَبِي عَامِرٍ - عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَعْصَعَةَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ بِنْتِ قَيْسٍ الأَنْصَارِيَّةِ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَعَهُ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَعَلِيٌّ نَاقِهٌ وَلَنَا دَوَالِي مُعَلَّقَةٌ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْكُلُ مِنْهَا وَقَامَ عَلِيٌّ لِيَأْكُلَ فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ لِعَلِيٍّ " مَهْ إِنَّكَ نَاقِهٌ " . حَتَّى كَفَّ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ . قَالَتْ وَصَنَعْتُ شَعِيرًا وَسِلْقًا فَجِئْتُ بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا عَلِيُّ أَصِبْ مِنْ هَذَا فَهُوَ أَنْفَعُ لَكَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ هَارُونُ الْعَدَوِيَّةِ .
English Translation
Hadrat Umm al-Mundhir bint Qays al-Ansariyyah (may Allah be well pleased with her) states that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) graced my home with his blessed visit, accompanied by Hadrat Ali al-Murtada (may Allah ennoble his countenance) who was convalescing from illness. We had some ripe date clusters hanging. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stood and began to eat from them. Hadrat Ali (may Allah ennoble his countenance) also rose to eat, but the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) repeatedly said to him: Stop, for you are still convalescing — until Hadrat Ali (may Allah ennoble his countenance) refrained. She said: Then I prepared barley and beetroot and brought it. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: O Hadrat Ali, eat from this, for it is more beneficial for you. Abu Dawud (upon him be mercy) said: The narrator Harun said al-Adawiyyah (instead of al-Ansariyyah).
Urdu Translation
اُمّ المؤمنین حضرت اُمّ منذر بنت قیس انصاریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، آپ کے ساتھ حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم تھے جو ابھی بیماری سے نقاہت میں تھے، اور ہمارے ہاں کھجور کے خوشے لٹکے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر ان میں سے تناول فرمانے لگے، اور حضرت علی کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم بھی کھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے بار بار ارشاد فرمایا: رکو! تم ابھی نقاہت میں ہو، یہاں تک کہ حضرت علی کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم رک گئے۔ فرماتی ہیں: میں نے جَو اور چقندر پکایا اور لے کر آئی تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے علی! اس میں سے تناول کرو یہ تمہارے لیے زیادہ مفید ہے۔ حضرت ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: ہارون نے (انصاریہ کے بجائے) عدویہ کہا ہے۔
