Arabic (Original)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أُنَاسٍ، مِنْ آلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَا صَفْوَانُ هَلْ عِنْدَكَ مِنْ سِلاَحٍ " . قَالَ عَارِيَةً أَمْ غَصْبًا قَالَ " لاَ بَلْ عَارِيَةً " . فَأَعَارَهُ مَا بَيْنَ الثَّلاَثِينَ إِلَى الأَرْبَعِينَ دِرْعًا وَغَزَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حُنَيْنًا فَلَمَّا هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ جُمِعَتْ دُرُوعُ صَفْوَانَ فَفَقَدَ مِنْهَا أَدْرَاعًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِصَفْوَانَ " إِنَّا قَدْ فَقَدْنَا مِنْ أَدْرَاعِكَ أَدْرَاعًا فَهَلْ نَغْرَمُ لَكَ " . قَالَ لاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لأَنَّ فِي قَلْبِي الْيَوْمَ مَا لَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَانَ أَعَارَهُ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ ثُمَّ أَسْلَمَ .
English Translation
It is narrated from some people from the family of Abdullah ibn Safwan that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: O Safwan, do you have any weapons? Safwan submitted: As a loan or as seizure? He stated: No, rather as a loan. So he lent him between thirty and forty coats of armor. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) fought at Hunayn. When the polytheists were defeated, the coats of armor of Safwan were gathered, but some were missing. He said to Safwan: We have found some of your armor missing; shall we compensate you? Safwan submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), today there is something in my heart that was not there before (i.e. faith). No (compensation is not needed).
Urdu Translation
آلِ عبداللہ بن صفوان کے کچھ لوگوں سے مروی ہے کہ محبوبِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے صفوان! کیا تمہارے پاس ہتھیار ہیں؟ صفوان نے عرض کیا: عاریت پر یا غصب پر؟ آپ نے ارشاد فرمایا: نہیں، بلکہ عاریت پر۔ پس اُنہوں نے آپ کو تیس سے چالیس زرہیں عاریت دیں۔ محبوبِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حنین میں غزوہ فرمایا۔ جب مشرکین شکست کھا گئے تو صفوان کی زرہیں جمع کی گئیں لیکن اُن میں سے بعض گم تھیں۔ آپ نے صفوان سے فرمایا: ہم نے تمہاری کچھ زرہیں کم پائی ہیں، کیا ہم تمہیں اُن کا بدلہ دیں؟ صفوان نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آج میرے دل میں وہ بات ہے جو پہلے نہ تھی (یعنی ایمان)۔ نہیں (بدلے کی ضرورت نہیں)۔
