Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " رُدُّوا عَلَيْهِمْ نِسَاءَهُمْ وَأَبْنَاءَهُمْ فَمَنْ مَسَكَ بِشَىْءٍ مِنْ هَذَا الْفَىْءِ فَإِنَّ لَهُ بِهِ عَلَيْنَا سِتَّ فَرَائِضَ مِنْ أَوَّلِ شَىْءٍ يُفِيئُهُ اللَّهُ عَلَيْنَا " . ثُمَّ دَنَا - يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم - مِنْ بَعِيرٍ فَأَخَذَ وَبَرَةً مِنْ سَنَامِهِ ثُمَّ قَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَيْسَ لِي مِنَ الْفَىْءِ شَىْءٌ وَلاَ هَذَا " . وَرَفَعَ أُصْبُعَيْهِ " إِلاَّ الْخُمُسَ وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ فَأَدُّوا الْخِيَاطَ وَالْمِخْيَطَ " . فَقَامَ رَجُلٌ فِي يَدِهِ كُبَّةٌ مِنْ شَعْرٍ فَقَالَ أَخَذْتُ هَذِهِ لأُصْلِحَ بِهَا بَرْذَعَةً لِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكَ " . فَقَالَ أَمَّا إِذْ بَلَغَتْ مَا أَرَى فَلاَ أَرَبَ لِي فِيهَا . وَنَبَذَهَا .
English Translation
In the same incident, Hadrat 'Amr ibn Shu'ayb narrated from his father, from his grandfather: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Return their women and children to them. Whoever holds on to anything from this spoil, he shall receive six shares in its place from the first thing that Allah grants us." Then the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) went near a camel, took a hair from its hump and stated: "O people, nothing from the spoils belongs to me — not even this" — and he raised two fingers — "except the one-fifth, and the one-fifth is returned to you. So return even the needle and the thread." A man stood up holding a ball of hair and submitted: I took this to repair my saddle-cloth. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "As for what belongs to me and Banu Abd al-Muttalib, it is yours." He submitted: Since the matter has come to this, I have no need for it — and he threw it away.
Urdu Translation
اسی واقعے میں حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "ان کی عورتیں اور بچے واپس کر دو۔ جس نے اس فَے میں سے کچھ روکا تو اس کے بدلے اسے ہماری طرف سے اللہ تعالیٰ کی پہلی عطا میں سے چھ حصے ملیں گے۔" پھر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ایک اونٹ کے قریب تشریف لے گئے، اس کے کوہان سے ایک بال اٹھایا اور ارشاد فرمایا: "اے لوگو! فَے میں سے میرے لیے کچھ نہیں، یہاں تک کہ یہ بھی نہیں" اور اپنی دو انگلیاں اٹھائیں۔ "سوائے خُمس کے، اور خمس بھی تم پر لوٹا دیا جاتا ہے۔ لہٰذا سوئی دھاگا تک ادا کرو۔" ایک آدمی کھڑا ہوا جس کے ہاتھ میں بالوں کا گولا تھا، اس نے عرض کیا: یہ میں نے اپنے گدھے کا پالان ٹھیک کرنے کے لیے لیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جو میرا اور بنو عبدالمطلب کا حصہ ہے وہ تمہارے لیے ہے۔" اس نے عرض کیا: جب معاملہ یہاں تک پہنچ گیا تو مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ اور اسے پھینک دیا۔
