Arabic (Original)
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَلِيًّا الأَزْدِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ عَلَّمَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا اسْتَوَى عَلَى بَعِيرِهِ خَارِجًا إِلَى سَفَرٍ كَبَّرَ ثَلاَثًا ثُمَّ قَالَ " { سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ * وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ } اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا اللَّهُمَّ اطْوِ لَنَا الْبُعْدَ اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الأَهْلِ وَالْمَالِ " . وَإِذَا رَجَعَ قَالَهُنَّ وَزَادَ فِيهِنَّ " آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ " . وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَجُيُوشُهُ إِذَا عَلَوُا الثَّنَايَا كَبَّرُوا وَإِذَا هَبَطُوا سَبَّحُوا فَوُضِعَتِ الصَّلاَةُ عَلَى ذَلِكَ .
English Translation
Hadrat Abdullah ibn Umar (may Allah be well pleased with them both) narrated that when the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) mounted his camel to set out on a journey, he would say "Allahu Akbar" three times, then say: "{Glory be to the One Who has subjected this for us, and we could not have subdued it, and indeed to our Lord we shall return.} O Allah, we ask You in this journey of ours for righteousness and piety and for deeds that please You. O Allah, make this journey of ours easy for us. O Allah, fold up the distance for us. O Allah, You are the Companion in the journey and the Successor among the family and wealth." And when he returned, he would say the same and add: "We are returning, repenting, worshipping, and praising our Lord." And the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and his armies, when they ascended heights, would say Allahu Akbar, and when they descended, they would say Subhan Allah. Prayer was thus established upon that.
Urdu Translation
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جب سفر کے لیے اپنے اونٹ پر سوار ہوتے تو تین بار تکبیر کہتے، پھر فرماتے: "{پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے لیے مسخر کیا اور ہم اسے قابو میں نہ لا سکتے تھے، اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں} اے اللہ! ہم تجھ سے اس سفر میں نیکی اور تقویٰ مانگتے ہیں اور ایسا عمل مانگتے ہیں جو تجھے پسند ہو۔ اے اللہ! ہمارا یہ سفر آسان فرما دے۔ اے اللہ! ہمارے لیے دوری کو سمیٹ دے۔ اے اللہ! تو سفر میں ساتھی ہے اور اہل و مال میں جانشین ہے۔" اور جب واپس ہوتے تو یہی کلمات کہتے اور ان میں اضافہ فرماتے: "ہم لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں، اپنے رب کی حمد کرنے والے ہیں۔" اور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے لشکر جب بلندیوں (درّوں) پر چڑھتے تو تکبیر کہتے اور جب نیچے اترتے تو تسبیح پڑھتے۔ پس نماز اسی بنیاد پر مقرر ہوئی۔
