Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ، حَدَّثَتْهُ أَنَّ أَبَا حَفْصِ بْنَ الْمُغِيرَةِ طَلَّقَهَا ثَلاَثًا وَسَاقَ الْحَدِيثَ فِيهِ وَأَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَنَفَرًا مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ أَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ أَبَا حَفْصِ بْنَ الْمُغِيرَةِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاَثًا وَإِنَّهُ تَرَكَ لَهَا نَفَقَةً يَسِيرَةً فَقَالَ " لاَ نَفَقَةَ لَهَا " . وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَحَدِيثُ مَالِكٍ أَتَمُّ .
English Translation
Hadrat Abu Salamah bin Hadrat 'Abd al-Rahman narrated to Yahya bin Abi Kathir that Hadrat Fatimah bint Qays (may Allah be well pleased with her) told him that Abu Hafs bin al-Mughirah (may Allah be well pleased with him) divorced her three times. The narrator then mentioned the full tradition. In this version: Hadrat Khalid bin al-Walid (may Allah be well pleased with him) and some people of Banu Makhzum came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and submitted: 'O the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) of Allah, Abu Hafs bin al-Mughirah has divorced his wife three times and has left her only a small maintenance.' He stated: 'There is no maintenance for her.' The narrator then transmitted the rest of the tradition. The narration of Malik is more complete.
Urdu Translation
یحییٰ بن ابی کثیر فرماتے ہیں کہ حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان سے روایت کیا کہ ابوحفص بن مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں تینوں طلاقیں دے دیں۔ پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں یہ ہے کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بنی مخزوم کے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے نبی! ابوحفص بن مغیرہ نے اپنی بیوی کو تینوں طلاقیں دے دی ہیں، اور اس نے اسے بہت معمولی نفقہ دیا ہے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کے لیے نفقہ نہیں ہے۔ پھر راوی نے باقی حدیث بیان کی، اور مالک کی روایت زیادہ مکمل ہے۔
