Arabic (Original)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ - عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا فَتَحَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهِمْ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ ثُمَّ هِيَ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لاَ يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلاَ يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلاَ تَحِلُّ لُقَطَتُهَا إِلاَّ لِمُنْشِدٍ " . فَقَامَ عَبَّاسٌ أَوْ قَالَ قَالَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلاَّ الإِذْخِرَ فَإِنَّهُ لِقُبُورِنَا وَبُيُوتِنَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِلاَّ الإِذْخِرَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَزَادَنَا فِيهِ ابْنُ الْمُصَفَّى عَنِ الْوَلِيدِ فَقَامَ أَبُو شَاهٍ - رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ - فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اكْتُبُوا لِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اكْتُبُوا لأَبِي شَاهٍ " . قُلْتُ لِلأَوْزَاعِيِّ مَا قَوْلُهُ " اكْتُبُوا لأَبِي شَاهٍ " . قَالَ هَذِهِ الْخُطْبَةَ الَّتِي سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
English Translation
Hadrat Abu Hurayrah (may Allah be well pleased with him) narrates: When Allah, the Most Exalted, granted the conquest of Makkah al-Mukarramah to His Beloved Messenger (blessings and peace of Allah be upon him), the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stood among the people, praised Allah and extolled Him, then stated: Verily Allah held back the Elephant from Makkah and gave His Messenger and the believers authority over it. It was made lawful for me only for a single hour of the day, and thereafter it is sacred until the Day of Resurrection. Its trees are not to be cut, its game is not to be disturbed, and its lost property is not lawful for anyone except the one who makes a public announcement of it. Hadrat Abbas (may Allah be well pleased with him) submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), except for the Idhkhir (a fragrant herb), for it is used in our graves and our houses. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: Except for the Idhkhir. Abu Dawud (upon him be mercy) said: Ibn al-Musaffa added, narrating from al-Walid: Abu Shah, a man from the people of Yemen, stood up and submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), have it written down for me. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: Write it down for Abu Shah. (Al-Walid says:) I asked al-Awza'i: What does his saying 'Write it down for Abu Shah' mean? He said: It means this sermon which he heard from the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him).
Urdu Translation
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو مکۂ مکرمہ فتح عطا فرمایا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان فرمائی، پھر ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے ہاتھی کو مکہ سے روکا اور اپنے رسول اور مومنین کو اُس پر غلبہ عطا فرمایا۔ مکہ صرف دن کی ایک گھڑی کے لیے میرے واسطے حلال کیا گیا، پھر قیامت تک کے لیے حرام ہے۔ نہ وہاں کا درخت کاٹا جائے، نہ وہاں کا شکار بھگایا جائے، اور نہ وہاں کی گری پڑی چیز (لُقطہ) کسی کے لیے حلال ہے، سوائے اُس کے جو اِس کا اعلان کرے۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اِذخر (ایک خوشبو دار گھاس) کو مستثنیٰ فرما دیجیے کیونکہ یہ ہماری قبروں اور گھروں میں استعمال ہوتی ہے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سوائے اِذخر کے۔ حضرت ابوداؤد فرماتے ہیں: ابن المصفّٰی نے ولید سے یہ اضافہ نقل کیا ہے: ابوشاہ نامی یمن کے ایک شخص کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے لکھوا دیجیے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابوشاہ کو لکھ کر دے دو۔ (ولید کہتے ہیں:) میں نے اوزاعی سے پوچھا: «اكتبوا لأبي شاه» سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہی خطبہ جو انہوں نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا۔
