العربية (الأصل)
حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو مُوسَى، ثناعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنافُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّعَامِرَ بْنَ سَعْدٍ، حَدَّثَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ، أَنَّسَعْدَ بْنَ مَالِكٍأَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَكَلَ سَبْعَ تَمَرَاتٍ عَجْوَةً مَا بَيْنَ لابَتَيِ الْمَدِينَةِ، وَيَبْدَأُ بِهِنَّ، لَمْ يَضُرَّهُ يَوْمَهُ ذَلِكَ سُمٌّ حَتَّى اللَّيْلِ"، قَالَ: فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: انْظُرْ مَا تُحَدِّثُ بِهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَامِرُ، فَقَالَ عَامِرٌ: أَشْهَدُ مَا كَذَبْتُ عَلَى سَعْدٍ، وَلا كَذَبَ سَعْدٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ: وَأَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكْذِبْ.
الترجمة الإنجليزية
Abdullah ibn Abd al-Rahman narrated that Amir ibn Sa'd narrated to Umar ibn Abd al-Aziz while he was the governor of Madinah, that Sa'd ibn Malik informed him that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever eats seven Ajwah dates from between the two lava fields of Madinah, starting his day with them, no poison will harm him that day until evening." He said: Umar ibn Abd al-Aziz said to him: 'Be careful about what you narrate from the Messenger of Allah (peace be upon him), O Amir.' Amir said: 'I testify that I did not lie about Sa'd, and Sa'd did not lie about the Messenger of Allah (peace be upon him).' Umar said: 'And I testify that the Messenger of Allah (peace be upon him) did not speak untruthfully.'
الترجمة الأردية
عبداللہ بن عبد الرحمٰن سے مروی ہے، عامر بن سعد نے عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کو جبکہ وہ مدینہ کے گورنر تھے حدیث بیان کی سعد بن مالک رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی بے شک رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جس نے سات عجوہ کھجوریں مدینہ کے دونوں کالی پتھریلی زمینوں کے درمیانی قطعہ کی کھائیں۔ اور انہیں سے دن کا آغاز کرے، اس دن اسے رات تک کوئی زہر نقصان نہیں دے گا۔“عامر بن سعد کو عمر بن عبد العزیز نے کہا، اے سعد! دیکھیں آپ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی طرف کیا بات منسوب کر کے بیان کر رہے ہیں؟ سعد نے (جواباً) کہا، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کی طرف جھوٹ منسوب نہیں کیا اور نہ سعد رضی اللہ عنہ نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی طرف جھوٹ منسوب کیا۔ عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے کہا، اور میں گواہی دیتا ہوں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے غلط بیانی نہیں فرمائی۔[مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن عامر بن سعد/حدیث: 76]
