العربية (الأصل)
ناأَبُو أمية عَمْرو بن هشام، نامَخْلَد بن يزيد. وَحَدَّثَنِيأَبُو يُوسُفَ الصَّيْدَلانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الرَّقِّيُّ، نازَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ، جَمِيعًا , عَنْجَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُقَيْلٍ، قَال: قَدِمَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْمَدِينَةَ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَوْمَئِذٍ أَمِيرٌ عَلَيْهَا، فَأَرْسَلَنِيعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزإِلَيْهِ أَسْأَلُهُ عَنْ حَدِيثٍ بَلَغَهُ، حَدَّثَ بِهِ الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ فِي قَوْمٍ خَرَجُوا مِنَ الْمَدِينَةِ، فَأَغَارُوا عَلَى سَرْحٍ بِالْمَدِينَةِ،فَاسْتَجَاشَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ فِي طَلَبِهِمْ، فَأَخَذَ مِنْهُمْ سِتَّةَ نَفَرٍ، فَزَعَمَ أَنَّهُ صَلَبَ مِنْهُمُ اثْنَيْنِ، وَقَطَعَ اثْنَيْنِ، وَسَمَرَ اثْنَيْنِ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ:" أُولَئِكَ كَانُوا أَقَرُّوا بِالإِسْلامِ وَهَاجَرُوا فَنَزَلُوا الْمَدِينَةَ، ثُمَّ خَرَجُوا رَغْبَةً عَنِ الإِسْلامِ، وَلَحِقُوا بِالْعَدُوِّ، فَاسْتَحَلَّ هَذَاك مِنْهُمْ"، قَالَ: فَرَدَّنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَيْهِ، فَقَالَ: لَيْتَكَ أَنَّكَ لَمْ تُحَدِّثِ الْحَجَّاجَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، إِنَّمَا صَنَعَ هَذَا بِقَوْمٍ خَرَجُوا مِنَ الإِسْلامِ وَلَحِقُوا بِالشِّرْكِ، فَاسْتَحَلَّ هَذَا مِنْهُمْ، وَإِنَّ الْحَجَّاجَ اسْتَحَلَّ هَذَا مِنْ قَوْمٍ لَمْ يَخْرُجُوا مِنَ الإِسْلامِ، وَلَمْ يَلْحَقُوا بِالشِّرْكِ". قَالَ: قَالَ: وَأَمَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنْ أَسْأَلَهُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْضِبُ بِالْحِنَّاءِ، فَقَالَأَنَسٌ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مُتِّعَ بِسَوَادِ الشَّعْرِ، لَوْ عَدَدْتَ مَا أَقْبَلَ مِنْ رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ مَا جَاوَزَ عِشْرِينَ شَيْبَةً"أَوْ قَالَ:" لَمْ تَجِدْ مِنْ شَعْرِهِ عَشْرَ شَعَرَاتٍ بِيضٍ"، وَاللَّفْظُ لأَبِي يُوسُفَ.
الترجمة الإنجليزية
Abdullah ibn Muhammad ibn Uqayl narrated: Anas ibn Malik came to Madinah while Umar ibn Abd al-Aziz was its governor at that time. Umar ibn Abd al-Aziz sent me to him to ask about a hadith that had reached him, which al-Hajjaj ibn Yusuf had narrated about a group who had left Madinah and raided its pastures. The Prophet (peace be upon him) was alerted and sent men in pursuit of them. They captured six of them; he claimed that two were crucified, two had their limbs amputated, and two had their eyes branded with hot iron. Anas ibn Malik said: 'Those people had professed Islam and emigrated, settling in Madinah. Then they left, rejecting Islam, and joined the enemy. So this punishment was deemed lawful for them.' He said: Umar ibn Abd al-Aziz sent me back to him and said: 'I wish you had not narrated this hadith to al-Hajjaj. This was done to people who had left Islam and joined polytheism, so it was deemed lawful for them. But al-Hajjaj used it against people who had not left Islam and had not joined polytheism.' He also said: Umar ibn Abd al-Aziz instructed me to ask Anas whether the Messenger of Allah (peace be upon him) used to dye with henna. Anas said: 'The Messenger of Allah (peace be upon him) was blessed with black hair. If you were to count the white hairs on the front of his head and beard, they would not exceed twenty' - or he said: 'You would not find ten white hairs in his hair.' The wording is that of Abu Yusuf.
الترجمة الأردية
عبد اللہ بن محمد بن عقیل سے مروی ہے، انہوں نے کہا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ تشریف لائے اور ان دنوں عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ مدینہ کے گورنر تھے۔ تو عمر بن عبد العزیز نے مجھے ان کی طرف بھیجا تا کہ میں ان سے اس حدیث سے متعلق دریافت کروں جو انہیں حجاج بن یوسف نے ایسے لوگوں سے متعلق بیان کی جو مدینہ منورہ سے نکلے اور انہوں نے مدینہ کی چرا گاہ پر حملہ کیا تو نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ان کے تعاقب میں لشکر کو روانہ کیا وہ ان میں سے چھ افراد کو پکڑ لائے تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے ان میں سے دو کو سولی دی، دو کے اعضا کاٹ دیئے اور دو کی آنکھوں میں گرم سلاخیں پھیری گئیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان لوگوں نے اسلام قبول کیا، ہجرت کی، مدینہ میں رہائش پذیر رہے پھر اسلام سے نفرت کرتے ہوئے مرتد ہو گئے اور دشمنوں کے ساتھ جا ملے تو ان کے ساتھ ایسا کرنا جائز ٹھہرا۔ عبد اللہ بن محمد بن عقیل کہتے ہیں، مجھے عمر بن عبد العزیز نے دوبارہ ان کے پاس بھیجا اور فرمایا: کاش آپ حجاج کو یہ حدیث نہ بیان کرتے کیونکہ یہ عمل آپ صلى الله عليه وسلم نے ان لوگوں کے ساتھ کیا جو مرتد ہو گئے اور مشرکین سے جا ملے جبکہ حجاج نے یہ سلوک ان لوگوں کے ساتھ کیا جو نہ مرتد ہوئے اور نہ ہی مشرکوں سے ملے۔ عبد اللہ بن محمد بن عقیل کہتے ہیں، مجھے عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے کہا کہ میں ان سے پوچھوں کیا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلممہندی لگاتے تھے؟ تو انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے بالوں کو سیاہ کرنے سے منع فرمایا، اگر تم نبیصلی اللہ علیہ وسلمکے سر اور داڑھی سے سفید بال شمار کرتے تو بیسں سے تجاوز نہ کر سکتے۔ یا فرمایا: آپ نبی علیہ السلام کے بالوں میں سے دس بال بھی سفید نہ پائیں گے۔ اور یہ الفاظ ابو یوسف صید لانی نے بیان کیے ہیں۔[مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن أنس بن مالك/حدیث: 6]
