العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَفَلَ مِنْ غَزْوَةٍ أَوْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ فَعَلاَ فَدْفَدًا مِنَ الأَرْضِ أَوْ شَرَفًا كَبَّرَ ثَلاَثًا ثُمَّ قَالَ " لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَائِحُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ " . وَفِي الْبَابِ عَنِ الْبَرَاءِ وَأَنَسٍ وَجَابِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Ibn Umar said: "When the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) would come home from a battle, or Hajj, or Umrah, when he was it a tract of land or raised area he would say 'Allahu Akbar (Allah is Most Great)' three times, then say: 'La Ilaha illallah Wahdahu la sharika lahu, lahul-mulku wa lahul-Hamdu wa Huwa ala kulli shai'in qadir. A'ibuna ta'ibun abidun saa'ihuna li Rabbina Hamiduna, Sadaqallahu wa'dahu wa nasara abdahu wa hazamal-ahzab Wahdah. (None has the right to be worshiped but Allah Alone without partners. To Him belongs the sovereignty and to Him belongs the praise, and He has power over all things. We are returning, repenting, worshipping, traveling for our Lord, and we are praising. Allah has told the truth, and kept His promise and helped His worshipper, and routed the confederates, Alone)
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جب کسی غزوے، حج یا عمرے سے لوٹتے اور کسی بلند مقام پر چڑھتے تو تین بار اللہ اکبر کہتے، پھر کہتے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير آيبون تائبون عابدون سائحون لربنا حامدون صدق الله وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ سلطنت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ہم لوٹنے والے ہیں، رجوع کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں، سیر و سیاحت کرنے والے ہیں، اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں۔ اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ اپنے بندے کی مدد کی، اور تنہا ہی ساری فوجوں کو شکست دے دی“، امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں براء، انس اور حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
