العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ابْنِ أَخِي، زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ - عَنْ زَيْنَبَ، - امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَهِمَ فِي حَدِيثِهِ فَقَالَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ أَخِي زَيْنَبَ . وَالصَّحِيحُ إِنَّمَا هُوَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ابْنِ أَخِي زَيْنَبَ . وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ رَأَى فِي الْحُلِيِّ زَكَاةً . وَفِي إِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ مَقَالٌ . وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي ذَلِكَ فَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ فِي الْحُلِيِّ زَكَاةَ مَا كَانَ مِنْهُ ذَهَبٌ وَفِضَّةٌ . وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ . وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمُ ابْنُ عُمَرَ وَعَائِشَةُ وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ لَيْسَ فِي الْحُلِيِّ زَكَاةٌ . وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ بَعْضِ فُقَهَاءِ التَّابِعِينَ وَبِهِ يَقُولُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Amr bin Al-Harith, the nephew of Hadrat Zainab, the wife of Hadrat Abdullah, narrated that Hadrat Zainab, the wife of Hadrat Abdullah narrated similarly from the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)
الترجمة الأردية
اس سند سے بھی حضرت عبداللہ بن مسعود کی اہلیہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حضرت ابومعاویہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ انہیں اپنی حدیث میں وہم ہوا ہے ۱؎ انہوں نے کہا ہے ”عمرو بن الحارث سے روایت ہے وہ حضرت عبداللہ بن مسعود کی بیوی زینب کے بھتیجے سے روایت کر رہے ہیں“ اور صحیح یوں ہے ”زینب کے بھتیجے عمرو بن حارث سے روایت ہے“، ۲- نیز عمرو بن شعیب سے بطریق: «عن أبيه، عن جده، عبدالله بن حضرت عمرو بن العاص عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت ہے کہ آپ نے زیورات میں زکاۃ واجب قرار دی ہے ۲؎ اس حدیث کی سند میں کلام ہے، ۳- اہل علم کا اس سلسلے میں اختلاف ہے۔ صحابہ کرام اور تابعین میں سے بعض اہل علم سونے چاندی کے زیورات میں زکاۃ کے قائل ہیں۔ سفیان ثوری اور عبداللہ بن مبارک بھی یہی کہتے ہیں۔ اور بعض صحابہ کرام جن میں حضرت ابن عمر، حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ، حضرت جابر بن عبداللہ اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہمشامل ہیں، فرماتے ہیں کہ زیورات میں زکاۃ نہیں ہے۔ بعض تابعین فقہاء سے بھی اسی طرح مروی ہے، اور یہی مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔
