العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ يَجْلِسُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَالَ مِثْلَ مَا تَفْعَلُونَ الْيَوْمَ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَهُوَ الَّذِي رَآهُ أَهْلُ الْعِلْمِ أَنْ يَفْصِلَ بَيْنَ الْخُطْبَتَيْنِ بِجُلُوسٍ .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Ibn Umar narrated:"The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) would give a Khutbah on Friday, then sit, then stand and give (another) Khutbah." He said: "Similar to what they do today
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دیتے پھر ( بیچ میں ) بیٹھتے، پھر کھڑے ہوتے اور خطبہ دیتے، راوی کہتے ہیں: جیسے آج کل تم لوگ کرتے ہو۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابن عباس، حضرت جابر بن عبداللہ اور حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- یہی اہل علم کی رائے ہے کہ دونوں خطبوں کے درمیان بیٹھ کر فصل کرے۔
