العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَكْرَةً فَعَوَّضَهُ مِنْهَا سِتَّ بَكَرَاتٍ فَتَسَخَّطَهَا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " إِنَّ فُلاَنًا أَهْدَى إِلَىَّ نَاقَةً فَعَوَّضْتُهُ مِنْهَا سِتَّ بَكَرَاتٍ فَظَلَّ سَاخِطًا وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لاَ أَقْبَلَ هَدِيَّةً إِلاَّ مِنْ قُرَشِيٍّ أَوْ أَنْصَارِيٍّ أَوْ ثَقَفِيٍّ أَوْ دَوْسِيٍّ " . وَفِي الْحَدِيثِ كَلاَمٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا . هَذَا حَدِيثٌ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ يَرْوِي عَنْ أَيُّوبَ أَبِي الْعَلاَءِ وَهُوَ أَيُّوبُ بْنُ مِسْكِينٍ وَيُقَالُ ابْنُ أَبِي مِسْكِينٍ وَلَعَلَّ هَذَا الْحَدِيثَ الَّذِي رُوِيَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ هُوَ أَيُّوبُ أَبُو الْعَلاَءِ .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Abu Hurairah that a Bedouin gave a young female camel as a gift to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), so he in turn for that, gave him six young female camels. But he was not satisfied with that, so when that news reached the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), he praised Allah, and expressed gratitude to Him, then said: 'Indeed so-and-so gave a camel to me as a gift, so I reciprocated for that with six young she-camels, yet he became upset. So I decided that I would not accept a gift except from a Quraishi, or Ansari, or Dawsi
الترجمة الأردية
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ایک جوان اونٹنی ہدیہ میں دی، اور آپ نے اس کے عوض میں اسے چھ اونٹنیاں عنایت فرمائیں، پھر بھی وہ آپ سے خفا رہا یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا: ”فلاں نے مجھے ایک اونٹنی ہدیہ میں دی تھی، میں نے اس کے عوض میں اسے چھ جوان اونٹنیاں دیں، پھر بھی وہ ناراض رہا، میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ اب سوائے قریشی، یا انصاری، یا ثقفی ۱؎ یا دوسی کے کسی کا ہدیہ قبول نہ کروں“، اس حدیث میں مزید کچھ اور باتیں بھی ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث متعدد سندوں سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آئی ہے، ۲- اور یزید بن ہارون ایوب ابوالعلاء سے روایت کرتے ہیں، اور وہ ایوب بن مسکین ہیں اور انہیں ابن ابی مسکین بھی کہا جاتا ہے، اور شاید یہی وہ حدیث ہے جسے انہوں نے ایوب سے اور ایوب نے سعید مقبری سے روایت کی ہے، اور ایوب سے مراد ایوب ابوالعلاء ہیں۔
