العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبَصْرِيُّ الْعَمِّيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ انْظُرُوا إِلَى هَذَا يَسْأَلُ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ هُمَا رَيْحَانَتَاىَ مِنَ الدُّنْيَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ وَمَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ . وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوُ .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat 'Abdur-Rahman bin Abu Nu'm that a man from the people of Al-'Iraq asked Hadrat Ibn 'Umar about the blood of a gnat that gets on the clothes. Hadrat Ibn 'Umar said "Look at this one, he asks about the blood of a gnat while they killed the son of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! And I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Indeed Al-Hasan and Al-Husain - they are my two sweet basils in the world
الترجمة الأردية
عبدالرحمٰن بن ابی نعم سے روایت ہے کہ اہل عراق کے ایک شخص نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مچھر کے خون کے بارے میں پوچھا جو کپڑے میں لگ جائے کہ اس کا کیا حکم ہے؟ ۱؎ تو حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا: اس شخص کو دیکھو یہ مچھر کے خون کا حکم پوچھ رہا ہے! حالانکہ انہیں لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے نواسہ کو قتل کیا ہے، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”حسن اور حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما یہ دونوں میری دنیا کے پھول ہیں“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اسے شعبہ اور مہدی بن میمون نے بھی محمد بن ابی یعقوب سے روایت کیا ہے، ۳- حضرت ابوہریرہ کے واسطے سے بھی نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی روایت آئی ہے۔
