It is narrated by Hadrat Thumamah bin Hazn Al-Qushairi that "I was present at the house when Hadrat 'Uthman appeared above them saying: 'Bring me your two companions who have gathered you against me.'" He said: "So they were brought as if they were two camels, or as if they were two donkeys." He said: "Hadrat 'Uthman appeared above them and said: 'I ask you by Allah and Islam! Do you know that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) came to Al-Madinah and there was no water in it that was sweet except the well of Rumah, so the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Who will purchase the well of Rumah and place his bucket alongside the buckets of the Muslims, in exchange for better than that in Paradise?' So I bought it with the core of my wealth, and today you prevent me from drinking from it, so that I would have to drink from the water of the sea?' They said: 'O Allah! Yes!' He said: 'I ask you by Allah and Islam! Do you know that the Masjid, was insufficient for its people, so the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Who will purchase the land of the family of so-and-so, and add it to the Masjid in exchange for better than that in Paradise?' So I bought it with the core of my wealth, and today you prevent me from praying two Rak'ah in it?' They said: 'O Allah! Yes.' He said: 'I ask you by Allah and Islam! Do you know that I prepared the 'army of distress' from my wealth?' They said: 'O Allah! Yes!' Then he said: 'I ask you by Allah and Islam! Do you know that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was on (mount) Thabir of Makkah, and with him was Hadrat Abu Bakr, and 'Umar, and myself. The mountain began shaking until its rocks fell to its bottom.' He said: 'So he (blessings and peace of Allah be upon him) stomped it with his foot and said: "Be still O Thabir! For there is none upon except a the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), a Siddiq and two martyrs?"' They said: 'O Allah! Yes!' He said: 'Allah is Great! Bear witness by the Lord of the Sacred Ka'bah that I am a martyr!' - three times
الترجمة الأردية
ثمامہ بن حزن قشیری کہتے ہیں کہ میں اس وقت گھر میں موجود تھا جب حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کوٹھے سے جھانک کر انہیں دیکھا اور کہا تھا: تم میرے سامنے اپنے ان دونوں ساتھیوں کو لاؤ، جنہوں نے میرے خلاف تمہیں جمع کیا ہے، چنانچہ ان دونوں کو لایا گیا گویا وہ دونوں دو اونٹ تھے یا دو گدھے یعنی بڑے موٹے اور طاقتور، تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں جھانک کر دیکھا اور کہا: میں تم سے اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو یہاں بئررومہ کے علاوہ کوئی اور میٹھا پانی نہیں تھا جسے لوگ پیتے تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کون بئررومہ کو جنت میں اپنے لیے اس سے بہتر چیز کے عوض خرید کر اپنے ڈول کو دوسرے مسلمانوں کے ڈول کے برابر کر دے گا؟“، یعنی اپنے ساتھ دوسرے مسلمانوں کو بھی پینے کا برابر کا حق دے گا، تو میں نے اسے اپنے اصل مال سے خریدا اور آج تم مجھ ہی کو اس کے پینے سے روک رہے ہو، یہاں تک کہ میں سمندر کا ( کھارا ) پانی پی رہا ہوں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، یہی بات ہے، انہوں نے کہا: میں تم سے اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ مسجد لوگوں کے لیے تنگ ہو گئی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کون آل فلاں کی زمین کے ٹکڑے کو اپنے لیے جنت میں اس سے بہتر چیز کے عوض خرید کر اسے مسجد میں شامل کر دے گا؟“، تو میں نے اسے اپنے اصل مال سے خریدا اور آج تم مجھ ہی کو اس میں دو رکعت نماز پڑھنے نہیں دے رہے ہو، لوگوں نے کہا: ہاں، بات یہی ہے، پھر انہوں نے کہا: میں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر تم سے پوچھتا ہوں: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مکہ کے پہاڑ ثبیر پر تھے اور آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر، عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما تھے اور میں تھا، تو پہاڑ لرزنے لگا، یہاں تک کہ اس کے کچھ پتھر نیچے کھائی میں گرے تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اپنے پیر سے مار کر فرمایا: ”ٹھہر اے ثبیر! تیرے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہیدوں کے سوا کوئی اور نہیں“، لوگوں نے کہا: ہاں بات یہی ہے۔ تو انہوں نے کہا: اللہ اکبر! قسم ہے رب کعبہ کی! ان لوگوں نے میرے شہید ہونے کی گواہی دے دی، یہ جملہ انہوں نے تین بار کہا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے اور حضرت عثمان سے یہ حدیث اس سند کے علاوہ سے بھی آئی ہے۔
It is narrated by Hadrat Thumamah bin Hazn Al-Qushairi that "I was present at the house when Hadrat 'Uthman appeared above them saying: 'Bring me your two companions who have gathered you against me.'" He said: "So they were brought as if they were two camels, or as if they were two donkeys." He said: "Hadrat 'Uthman appeared above them and said: 'I ask you by Allah and Islam! Do you know that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) came to Al-Madinah and there was no water in it that was sweet except the well of Rumah, so the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Who will purchase the well of Rumah and place his bucket alongside the buckets of the Muslims, in exchange for better than that in Paradise?' So I bought it with the core of my wealth, and today you prevent me from drinking from it, so that I would have to drink from the water of the sea?' They said: 'O Allah! Yes!' He said: 'I ask you by Allah and Islam! Do you know that the Masjid, was insufficient for its people, so the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Who will purchase the land of the family of so-and-so, and add it to the Masjid in exchange for better than that in Paradise?' So I bought it with the core of my wealth, and today you prevent me from praying two Rak'ah in it?' They said: 'O Allah! Yes.' He said: 'I ask you by Allah and Islam! Do you know that I prepared the 'army of distress' from my wealth?' They said: 'O Allah! Yes!' Then he said: 'I ask you by Allah and Islam! Do you know that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was on (mount) Thabir of Makkah, and with him was Hadrat Abu Bakr, and 'Umar, and myself. The mountain began shaking until its rocks fell to its bottom.' He said: 'So he (blessings and peace of Allah be upon him) stomped it with his foot and said: "Be still O Thabir! For there is none upon except a the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), a Siddiq and two martyrs?"' They said: 'O Allah! Yes!' He said: 'Allah is Great! Bear witness by the Lord of the Sacred Ka'bah that I am a martyr!' - three times
ثمامہ بن حزن قشیری کہتے ہیں کہ میں اس وقت گھر میں موجود تھا جب حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کوٹھے سے جھانک کر انہیں دیکھا اور کہا تھا: تم میرے سامنے اپنے ان دونوں ساتھیوں کو لاؤ، جنہوں نے میرے خلاف تمہیں جمع کیا ہے، چنانچہ ان دونوں کو لایا گیا گویا وہ دونوں دو اونٹ تھے یا دو گدھے یعنی بڑے موٹے اور طاقتور، تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں جھانک کر دیکھا اور کہا: میں تم سے اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو یہاں بئررومہ کے علاوہ کوئی اور میٹھا پانی نہیں تھا جسے لوگ پیتے تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کون بئررومہ کو جنت میں اپنے لیے اس سے بہتر چیز کے عوض خرید کر اپنے ڈول کو دوسرے مسلمانوں کے ڈول کے برابر کر دے گا؟“، یعنی اپنے ساتھ دوسرے مسلمانوں کو بھی پینے کا برابر کا حق دے گا، تو میں نے اسے اپنے اصل مال سے خریدا اور آج تم مجھ ہی کو اس کے پینے سے روک رہے ہو، یہاں تک کہ میں سمندر کا ( کھارا ) پانی پی رہا ہوں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، یہی بات ہے، انہوں نے کہا: میں تم سے اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ مسجد لوگوں کے لیے تنگ ہو گئی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کون آل فلاں کی زمین کے ٹکڑے کو اپنے لیے جنت میں اس سے بہتر چیز کے عوض خرید کر اسے مسجد میں شامل کر دے گا؟“، تو میں نے اسے اپنے اصل مال سے خریدا اور آج تم مجھ ہی کو اس میں دو رکعت نماز پڑھنے نہیں دے رہے ہو، لوگوں نے کہا: ہاں، بات یہی ہے، پھر انہوں نے کہا: میں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر تم سے پوچھتا ہوں: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مکہ کے پہاڑ ثبیر پر تھے اور آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر، عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما تھے اور میں تھا، تو پہاڑ لرزنے لگا، یہاں تک کہ اس کے کچھ پتھر نیچے کھائی میں گرے تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اپنے پیر سے مار کر فرمایا: ”ٹھہر اے ثبیر! تیرے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہیدوں کے سوا کوئی اور نہیں“، لوگوں نے کہا: ہاں بات یہی ہے۔ تو انہوں نے کہا: اللہ اکبر! قسم ہے رب کعبہ کی! ان لوگوں نے میرے شہید ہونے کی گواہی دے دی، یہ جملہ انہوں نے تین بار کہا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے اور حضرت عثمان سے یہ حدیث اس سند کے علاوہ سے بھی آئی ہے۔