العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ، رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَيْنَمَا أَنَا عِنْدَ الْبَيْتِ بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ إِذْ سَمِعْتُ قَائِلاً يَقُولُ أَحَدٌ بَيْنَ الثَّلاَثَةِ فَأُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ فِيهَا مَاءُ زَمْزَمَ فَشَرَحَ صَدْرِي إِلَى كَذَا وَكَذَا " . قَالَ قَتَادَةُ قُلْتُ يَعْنِي قُلْتُ لأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَا يَعْنِي قَالَ " إِلَى أَسْفَلِ بَطْنِي فَاسْتُخْرِجَ قَلْبِي فَغُسِلَ قَلْبِي بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ أُعِيدَ مَكَانَهُ ثُمَّ حُشِيَ إِيمَانًا وَحِكْمَةً " . وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ طَوِيلَةٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَوَاهُ هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ وَهَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ . وَفِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Anas bin Malik narrated from Malik bin Sa’sa’ah – a man among his people – that :the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) of Allah said: “While I was at the House, between sleeping and being awake, I heard someone saying: “The one in the middle of the three.’ I was brought a vessel of gold containing Zamzam water, so my chest was split, to here.’” – Qatadah said: “I said to Hadrat Anas: ‘What does that mean?’ He said: ‘To the lowest part of his stomach.’” – He said: “So my heart was removed, and washed with Zamzam water, then returned to its placed. Then I was filled with Faith and wisdom.”There is a long story with this Hadith
الترجمة الأردية
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی قوم کے ایک شخص مالک بن صعصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں بیت اللہ کے پاس نیم خوابی کے عالم میں تھا ( کچھ سو رہا تھا اور کچھ جاگ رہا تھا ) اچانک میں نے ایک بولنے والے کی آواز سنی، وہ کہہ رہا تھا تین آدمیوں میں سے ایک ( محمد ہیں ) ۱؎، پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا، اس میں زمزم کا پانی تھا، اس نے میرے سینے کو چاک کیا یہاں سے یہاں تک“، قتادہ کہتے ہیں: میں نے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا: کہاں تک؟ انہوں نے کہا: آپ نے فرمایا: ”پیٹ کے نیچے تک“، پھر آپ نے فرمایا: ”اس نے میرا دل نکالا، پھر اس نے میرے دل کو زمزم سے دھویا، پھر دل کو اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا اور ایمان و حکمت سے اسے بھر دیا گیا ۲؎ اس حدیث میں ایک لمبا قصہ ہے“ ۳؎۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے ۲- اسے ہشام دستوائی اور ہمام نے قتادہ سے روایت کیا ہے، ۳- اس باب میں حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی روایت ہے۔
