العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَأَلَهُ، رَجُلٌ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ، ( يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلاَدِكُمْ عَدُوًّا لَكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ ) قَالَ هَؤُلاَءِ رِجَالٌ أَسْلَمُوا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ وَأَرَادُوا أَنْ يَأْتُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَبَى أَزْوَاجُهُمْ وَأَوْلاَدُهُمْ أَنْ يَدَعُوهُمْ أَنْ يَأْتُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَوُا النَّاسَ قَدْ فَقِهُوا فِي الدِّينِ هَمُّوا أَنْ يُعَاقِبُوهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَل َّ: ( يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلاَدِكُمْ عَدُوًّا لَكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ ) الآيَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Ikrimah (may Allah be well pleased with him) narrated that Hadrat Ibn Abbas was asked by a man about this Ayah: O you who believe! Verity, among your wives and your children there are enemies for you; therefore beware of them! He said: “These are men who submitted (to Islam) in Makkah, and they wanted to come to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) but their wives and children refused to allow them to come to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). So when they came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), they saw that the people had gained such understanding in the religion that they wanted to punish them (their families). So Allah revealed the Ayah: O you who believe! Verily, among your wives and your children there are enemies for you; therefore beware of them!”
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے ایک آدمی نے آیت «يا أيها الذين آمنوا إن من أزواجكم وأولادكم عدوا لكم فاحذروهم» ”اے ایمان والو! تمہاری بعض بیویاں اور بعض بچے تمہارے دشمن ہیں، پس ان سے ہوشیار رہنا اور اگر تم معاف کر دو اور درگزر کر جاؤ اور بخش دو تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے“ ( التغابن: ۱۴ ) ، کے بارے میں پوچھا کہ یہ کس کے بارے میں اتری ہے؟ انہوں نے کہا: اہل مکہ میں کچھ لوگ تھے جو ایمان لائے تھے، اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچنے کا ارادہ کر لیا تھا، مگر ان کی بیویوں اور ان کی اولادوں نے انکار کیا کہ وہ انہیں چھوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جائیں، پھر جب وہ ( کافی دنوں کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے یہاں آئے اور دیکھا کہ لوگوں نے دین کی فقہ، ( دین کی سوجھ بوجھ ) کافی حاصل کر لی ہے، تو انہوں نے ارادہ کیا کہ وہ اپنی بیویوں اور بچوں کو ( ان کے رکاوٹ ڈالنے کے باعث ) سزا دیں، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
