العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ مَسْعُودٍ رضى الله عنه هَلْ صَحِبَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ الْجِنِّ مِنْكُمْ أَحَدٌ قَالَ مَا صَحِبَهُ مِنَّا أَحَدٌ وَلَكِنْ قَدِ افْتَقَدْنَاهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَهُوَ بِمَكَّةَ فَقُلْنَا اغْتِيلَ أَوِ اسْتُطِيرَ مَا فُعِلَ بِهِ فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ حَتَّى إِذَا أَصْبَحْنَا أَوْ كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ إِذَا نَحْنُ بِهِ يَجِيءُ مِنْ قِبَلِ حِرَاءَ قَالَ فَذَكَرُوا لَهُ الَّذِي كَانُوا فِيهِ فَقَالَ " أَتَانِي دَاعِيَ الْجِنِّ فَأَتَيْتُهُمْ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمْ " . فَانْطَلَقَ فَأَرَانَا آثَارَهُمْ وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ . قَالَ الشَّعْبِيُّ وَسَأَلُوهُ الزَّادَ وَكَانُوا مِنْ جِنِّ الْجَزِيرَةِ فَقَالَ " كُلُّ عَظْمٍ لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ يَقَعُ فِي أَيْدِيكُمْ أَوْفَرَ مَا كَانَ لَحْمًا وَكُلُّ بَعْرَةٍ أَوْ رَوْثَةٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّكُمْ " . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَلاَ تَسْتَنْجُوا بِهِمَا فَإِنَّهُمَا زَادُ إِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Ash-Sha'bi that 'Alqamah said: "I said to Hadrat Ibn Mas'ud, may Allah be well pleased with him: 'Did any of you accompany the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) on the Night of the Jinn?' He said: 'None of us accompanied him. One night, while he was in Makkah, we could not find him. We said: "He has been murdered [or] snatched, what has happened to him?" So we spent the worst night a people could spend until the morning' or 'it was about dawn when we saw him coming from the direction of Hira.' He said: 'They told him about what they had went through.'" "So he (blessings and peace of Allah be upon him) said: 'Someone from the Jinn came to invite me, so I went to them to recite for them.' He said: "So we went and saw their tracks and the traces of their camp fire.'" Ash-Sha'bi said: "They asked him about their provisions - and they were Jinns of Mesopotamia - so he said: 'Every bone upon which Allah's name has not been mentioned, that falls into your hands, and every dropping of dung is fodder for your beasts.'" So the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Do not perform Istinja with them for indeed they are provisions for your brothers among the Jinns
الترجمة الأردية
علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا: کیا جنوں والی رات میں آپ لوگوں میں سے کوئی نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا؟ انہوں نے کہا: ہم میں سے کوئی آپ کے ساتھ نہیں تھا، آپ مکہ میں تھے اس وقت کی بات ہے، ایک رات ہم نے آپ کو نائب پایا، ہم نے کہا: آپ کا اغوا کر لیا گیا ہے یا ( جن ) اڑا لے گئے ہیں، آپ کے ساتھ کیا کیا گیا ہے؟ بری سے بری رات جو کوئی قوم گزار سکتی ہے ہم نے ویسی ہی اضطراب وبے چینی کی رات گزاری، یہاں تک کہ جب صبح ہوئی، یا صبح تڑکے کا وقت تھا اچانک ہم نے دیکھا کہ آپ حرا کی جانب سے تشریف لا رہے ہیں، لوگوں نے آپ سے اپنی اس فکرو تشویش کا ذکر کیا جس سے وہ رات کے وقت دوچار تھے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنوں کا قاصد ( مجھے بلانے ) آیا، تو میں ان کے پاس گیا، اور انہیں قرآن پڑھ کر سنایا“، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں: ـ پھر آپ اٹھ کر چلے اور ہمیں ان کے آثار ( نشانات و ثبوت ) دکھائے، اور ان کی آگ کے نشانات دکھائے۔ شعبی کہتے ہیں: جنوں نے آپ سے توشہ مانگا، اور وہ جزیرہ کے رہنے والے جن تھے، آپ نے فرمایا: ”ہر ہڈی جس پر اللہ کا نام لیا جائے گا تمہارے ہاتھ میں پہنچ کر پہلے سے زیادہ گوشت والی بن جائے گی، ہر مینگنی اور لید ( گوبر ) تمہارے جانوروں کا چارہ ہے“، پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ( صحابہ سے ) فرمایا: ” ( اسی وجہ سے ) ان دونوں چیزوں سے استنجاء نہ کرو کیونکہ یہ دونوں چیزیں تمہارے بھائی جنوں کی خوراک ہیں“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
