العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِبَرَاءَةَ مَعَ أَبِي بَكْرٍ ثُمَّ دَعَاهُ فَقَالَ " لاَ يَنْبَغِي لأَحَدٍ أَنْ يُبَلِّغَ هَذَا إِلاَّ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِي " . فَدَعَا عَلِيًّا فَأَعْطَاهُ إِيَّاهَا . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Anas bin Malik that "The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) sent Hadrat Abu Bakr with the (announcement of) Hadrat Bara'ah (the declaration to publicize the disavowal of the idolaters). Then he summoned him and said: 'It is not right for anyone to convey this except a man among my family.'"So he called for 'Ali and gave it to him
الترجمة الأردية
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے سورۃ برأۃ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ بھیجی ۱؎ پھر آپ نے انہیں بلا لیا، فرمایا: ”میرے خاندان کے کسی فرد کے سوا کسی اور کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ جا کر یہ پیغام وہاں پہنچائے ( اس لیے تم اسے لے کر نہ جاؤ ) پھر آپ نے علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کو بلایا اور انہیں سورۃ برأۃ دے کر ( مکہ ) بھیجا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث حضرت انس بن مالک کی روایت سے حسن غریب ہے۔
