جامع الترمذيChapters on The Virtues of the Qur'an#2875صحيح
العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ عَلَى أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا أُبَىُّ " . وَهُوَ يُصَلِّي فَالْتَفَتَ أُبَىٌّ وَلَمْ يُجِبْهُ وَصَلَّى أُبَىٌّ فَخَفَّفَ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَعَلَيْكَ السَّلاَمُ مَا مَنَعَكَ يَا أُبَىُّ أَنْ تُجِيبَنِي إِذْ دَعَوْتُكَ " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ فِي الصَّلاَةِ . قَالَ " أَفَلَمْ تَجِدْ فِيمَا أَوْحَى اللَّهُ إِلَىَّ أَنِ (استَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ ) " . قَالَ بَلَى وَلاَ أَعُودُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . قَالَ " تُحِبُّ أَنْ أُعَلِّمَكَ سُورَةً لَمْ يَنْزِلْ فِي التَّوْرَاةِ وَلاَ فِي الإِنْجِيلِ وَلاَ فِي الزَّبُورِ وَلاَ فِي الْفُرْقَانِ مِثْلُهَا " . قَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَيْفَ تَقْرَأُ فِي الصَّلاَةِ " . قَالَ فَقَرَأَ أُمَّ الْقُرْآنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أُنْزِلَتْ فِي التَّوْرَاةِ وَلاَ فِي الإِنْجِيلِ وَلاَ فِي الزَّبُورِ وَلاَ فِي الْفُرْقَانِ مِثْلُهَا وَإِنَّهَا سَبْعٌ مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُعْطِيتُهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَفِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Abu Hurairah that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) came out to Hadrat Ubayy bin Ka'b, and the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "O Hadrat Ubayy!" And he was performing Salat, so Hadrat Ubayy turned around but he did not respond to him, so Hadrat Ubayy finished his Salat quickly. Then he turned to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and said: 'As-Salamu 'Alaikum, O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)!' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Wa 'Alaikum As-Salam - what prevented you from responding to me when I called you Hadrat Ubayy?' He submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! I was performing Salat.' So he said: 'Do you not find among what Allah revealed to me: Respond to Allah and to the Messenger when they call you to what gives you life?' He said: 'Of course, I shall not repeat that, if Allah wills.' He said: 'Would you like for me to teach you a Surah the likes of which has neither been revealed in the Tawrah, nor the Injil, nor the Zabur, nor in the entire Qur'an?' He said: "Yes, O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)!' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'What do you recite in your Salat?' He said: 'I recite Umm Al-Qur'an.' So the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'By the One in Whose Hand is my soul! The like of it has neither been revealed in the Tawrah, nor the Injil nor the Zabur, nor in the Furqan. It is the seven oft-repeated, and the Magnificent Qur'an which I was given
الترجمة الأردية
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سے گزرے وہ نماز پڑھ رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”اے ابی ( سنو ) وہ ( آواز سن کر ) متوجہ ہوئے لیکن جواب نہ دیا، نماز جلدی جلدی پوری کی، پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: السلام علیک یا رسول اللہ! ( اللہ کے رسول آپ پر سلامتی نازل ہو ) ، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وعلیک السلام ( تم پر بھی سلامتی ہو ) ابی! جب میں نے تمہیں بلایا تو تم میرے پاس کیوں نہ حاضر ہوئے؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: ” ( اب تک ) جو وحی مجھ پر نازل ہوئی ہے اس میں تجھے کیا یہ آیت نہیں ملی «استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم لما يحييكم» ”اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول کے کہنے کو بجا لاؤ، جب کہ رسول تم کو تمہاری زندگی بخش چیز کی طرف بلاتے ہوں“ ( انفال ۲۴ ) ، انہوں نے کہا: جی ہاں، اور آئندہ إن شاء اللہ ایسی بات نہ ہو گی۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تمہیں پسند ہے کہ میں تمہیں ایسی سورت سکھاؤں جیسی سورت نہ تو رات میں نازل ہوئی نہ انجیل میں اور نہ زبور میں اور نہ ہی قرآن میں؟“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ( ضرور سکھائیے ) رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نماز میں تم ( قرآن ) کیسے پڑھتے ہو؟“ تو انہوں نے ام القرآن ( سورۃ فاتحہ ) پڑھی۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ تورات میں، انجیل میں، زبور میں ( حتیٰ کہ ) قرآن اس جیسی سورت نازل نہیں ہوئی ہے۔ یہی سبع مثانی ۲؎ ( سات آیتیں ) ہیں اور یہی وہ قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت انس بن مالک اور حضرت ابوسعید بن معلی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ عَلَى أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا أُبَىُّ " . وَهُوَ يُصَلِّي فَالْتَفَتَ أُبَىٌّ وَلَمْ يُجِبْهُ وَصَلَّى أُبَىٌّ فَخَفَّفَ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَعَلَيْكَ السَّلاَمُ مَا مَنَعَكَ يَا أُبَىُّ أَنْ تُجِيبَنِي إِذْ دَعَوْتُكَ " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ فِي الصَّلاَةِ . قَالَ " أَفَلَمْ تَجِدْ فِيمَا أَوْحَى اللَّهُ إِلَىَّ أَنِ (استَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ ) " . قَالَ بَلَى وَلاَ أَعُودُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . قَالَ " تُحِبُّ أَنْ أُعَلِّمَكَ سُورَةً لَمْ يَنْزِلْ فِي التَّوْرَاةِ وَلاَ فِي الإِنْجِيلِ وَلاَ فِي الزَّبُورِ وَلاَ فِي الْفُرْقَانِ مِثْلُهَا " . قَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَيْفَ تَقْرَأُ فِي الصَّلاَةِ " . قَالَ فَقَرَأَ أُمَّ الْقُرْآنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أُنْزِلَتْ فِي التَّوْرَاةِ وَلاَ فِي الإِنْجِيلِ وَلاَ فِي الزَّبُورِ وَلاَ فِي الْفُرْقَانِ مِثْلُهَا وَإِنَّهَا سَبْعٌ مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُعْطِيتُهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَفِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى .
It is narrated by Hadrat Abu Hurairah that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) came out to Hadrat Ubayy bin Ka'b, and the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "O Hadrat Ubayy!" And he was performing Salat, so Hadrat Ubayy turned around but he did not respond to him, so Hadrat Ubayy finished his Salat quickly. Then he turned to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and said: 'As-Salamu 'Alaikum, O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)!' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Wa 'Alaikum As-Salam - what prevented you from responding to me when I called you Hadrat Ubayy?' He submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! I was performing Salat.' So he said: 'Do you not find among what Allah revealed to me: Respond to Allah and to the Messenger when they call you to what gives you life?' He said: 'Of course, I shall not repeat that, if Allah wills.' He said: 'Would you like for me to teach you a Surah the likes of which has neither been revealed in the Tawrah, nor the Injil, nor the Zabur, nor in the entire Qur'an?' He said: "Yes, O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)!' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'What do you recite in your Salat?' He said: 'I recite Umm Al-Qur'an.' So the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'By the One in Whose Hand is my soul! The like of it has neither been revealed in the Tawrah, nor the Injil nor the Zabur, nor in the Furqan. It is the seven oft-repeated, and the Magnificent Qur'an which I was given
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سے گزرے وہ نماز پڑھ رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”اے ابی ( سنو ) وہ ( آواز سن کر ) متوجہ ہوئے لیکن جواب نہ دیا، نماز جلدی جلدی پوری کی، پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: السلام علیک یا رسول اللہ! ( اللہ کے رسول آپ پر سلامتی نازل ہو ) ، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وعلیک السلام ( تم پر بھی سلامتی ہو ) ابی! جب میں نے تمہیں بلایا تو تم میرے پاس کیوں نہ حاضر ہوئے؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: ” ( اب تک ) جو وحی مجھ پر نازل ہوئی ہے اس میں تجھے کیا یہ آیت نہیں ملی «استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم لما يحييكم» ”اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول کے کہنے کو بجا لاؤ، جب کہ رسول تم کو تمہاری زندگی بخش چیز کی طرف بلاتے ہوں“ ( انفال ۲۴ ) ، انہوں نے کہا: جی ہاں، اور آئندہ إن شاء اللہ ایسی بات نہ ہو گی۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تمہیں پسند ہے کہ میں تمہیں ایسی سورت سکھاؤں جیسی سورت نہ تو رات میں نازل ہوئی نہ انجیل میں اور نہ زبور میں اور نہ ہی قرآن میں؟“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ( ضرور سکھائیے ) رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نماز میں تم ( قرآن ) کیسے پڑھتے ہو؟“ تو انہوں نے ام القرآن ( سورۃ فاتحہ ) پڑھی۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ تورات میں، انجیل میں، زبور میں ( حتیٰ کہ ) قرآن اس جیسی سورت نازل نہیں ہوئی ہے۔ یہی سبع مثانی ۲؎ ( سات آیتیں ) ہیں اور یہی وہ قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت انس بن مالک اور حضرت ابوسعید بن معلی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے بھی احادیث آئی ہیں۔