العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ دَيْلَمَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ كَانَ الْيَهُودُ يَتَعَاطَسُونَ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَرْجُونَ أَنْ يَقُولَ لَهُمْ يَرْحَمُكُمُ اللَّهُ . فَيَقُولُ " يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَأَبِي أَيُّوبَ وَسَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Abu Musa that the Jews used to sneeze in the presence of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) hoping that he would say: 'Yarhamukumullah (May Allah have mercy upon you).' So he said: 'Yahdikumullahu Wa Yuslihu Balakum (May Allah guide you and rectify your affairs)
الترجمة الأردية
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ یہود نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہوتے تو یہ امید لگا کر چھینکتے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ان کے لیے «يرحمكم الله» ”اللہ تم پر رحم کرے“ کہیں گے۔ مگر آپ ( اس موقع پر صرف ) «يهديكم الله ويصلح بالكم» ”اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارا حال درست کر دے“ فرماتے ۱؎۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، حضرت ابوایوب، سالم بن عبید، عبداللہ بن جعفر اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
