العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَقُولُ : (أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ ) قَالَ " يَقُولُ ابْنُ آدَمَ مَالِي مَالِي وَهَلْ لَكَ مِنْ مَالِكَ إِلاَّ مَا تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ أَوْ أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
الترجمة الإنجليزية
Mutarrif narrated from his father, that he met up with the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) while he was saying:"The mutual increase diverts you". He (blessings and peace of Allah be upon him) said: "The son of Adam (upon him be peace) says:'My wealth, my wealth, but is there something for you from your wealth besides what you give in charity that remains, or you eat which perishes, or what you wear that grows worn?
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن شخیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور آپ «ألهاكم التكاثر» کی تلاوت کر رہے تھے تو آپ نے فرمایا: ”ابن آدم کہتا ہے کہ میرا مال، میرا مال، حالانکہ تمہارا مال صرف وہ ہے جو تم نے صدقہ کر دیا اور اسے آگے چلا دیا ۱؎، اور کھایا اور اسے ختم کر دیا یا پہنا اور اسے پرانا کر دیا“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
