العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَثَلُ الْقَائِمِ عَلَى حُدُودِ اللَّهِ وَالْمُدْهِنِ فِيهَا كَمَثَلِ قَوْمٍ اسْتَهَمُوا عَلَى سَفِينَةٍ فِي الْبَحْرِ فَأَصَابَ بَعْضُهُمْ أَعْلاَهَا وَأَصَابَ بَعْضُهُمْ أَسْفَلَهَا فَكَانَ الَّذِينَ فِي أَسْفَلِهَا يَصْعَدُونَ فَيَسْتَقُونَ الْمَاءَ فَيَصُبُّونَ عَلَى الَّذِينَ فِي أَعْلاَهَا فَقَالَ الَّذِينَ فِي أَعْلاَهَا لاَ نَدَعُكُمْ تَصْعَدُونَ فَتُؤْذُونَنَا فَقَالَ الَّذِينَ فِي أَسْفَلِهَا فَإِنَّا نَنْقُبُهَا مِنْ أَسْفَلِهَا فَنَسْتَقِي فَإِنْ أَخَذُوا عَلَى أَيْدِيهِمْ فَمَنَعُوهُمْ نَجَوْا جَمِيعًا وَإِنْ تَرَكُوهُمْ غَرِقُوا جَمِيعًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat An-Nu'man bin Bashir (may Allah be well pleased with him) narrated that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: "The parable of the one who upholds Allah's laws and the one who breaches them, is that of a people who drew lots on a ship at sea. Some of them got the upper part, and some of them the lower part. Those on the lower part ascended to get water, spilling it upon those upper part. So those in the upper part say: 'We will not leave you to come up here and bother us.' Then those on the lower part say: 'We should make a hole in the lower part, so we can get water.' If they take them by the hand and stop them, then they will save all of them, and if they leave them, they will all drown
الترجمة الأردية
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کے حدود پر قائم رہنے والے ( یعنی اس کے احکام کی پابندی کرنے والے ) اور اس کی مخالفت کرنے والوں کی مثال اس قوم کی طرح ہے، جو قرعہ اندازی کے ذریعہ ایک کشتی میں سوار ہوئی، بعض لوگوں کو کشتی کے بالائی طبقہ میں جگہ ملی اور بعض لوگوں کو نچلے حصہ میں، نچلے طبقہ والے اوپر چڑھ کر پانی لیتے تھے تو بالائی طبقہ والوں پر پانی گر جاتا تھا، لہٰذا بالائی حصہ والوں نے کہا: ہم تمہیں اوپر نہیں چڑھنے دیں گے تاکہ ہمیں تکلیف پہنچاؤ ( یہ سن کر ) نچلے حصہ والوں نے کہا: ہم کشتی کے نیچے سوراخ کر کے پانی لیں گے، اب اگر بالائی طبقہ والے ان کے ہاتھ پکڑ کر روکیں گے تو تمام نجات پا جائیں گے اور اگر انہیں ایسا کرنے سے منع نہیں کریں گے تو تمام کے تمام ڈوب جائیں گے“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
