العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ الْكَنْزِ وَالْغُلُولِ وَالدَّيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ هَكَذَا قَالَ سَعِيدٌ الْكَنْزُ وَقَالَ أَبُو عَوَانَةَ فِي حَدِيثِهِ الْكِبْرُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ مَعْدَانَ وَرِوَايَةُ سَعِيدٍ أَصَحُّ.
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Thawban (may Allah be well pleased with him) narrated that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Whoever's soul departs from his body while he is free from three things: hoarding wealth, Ghulul (misappropriation), and debt, he will enter Paradise.' Sa'id said: 'hoarding wealth (Al-Kanz)' while Abu Awanah said in his narration: 'arrogance (Al-Kibr)' and did not mention Ma'dan in the chain. The narration of Sa'id is more correct.
الترجمة الأردية
حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ( قربانی والے جانور کی ) آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لیں، اور ایسے جانور کی قربانی نہ کریں جس کا کان آگے سے کٹا ہو، یا جس کا کان پیچھے سے کٹا ہو، یا جس کا کان چیرا ہوا ہو ( یعنی لمبائی میں کٹا ہوا ہو ) ، یا جس کے کان میں سوراخ ہو۔ اس سند سے بھی علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، اس میں یہ اضافہ ہے کہ «مقابلة» وہ جانور ہے جس کے کان کا کنارہ ( آگے سے ) کٹا ہو، «مدابرة» وہ جانور ہے جس کے کان کا کنارہ ( پیچھے سے ) کٹا ہو، «شرقاء» جس کا کان ( لمبائی میں ) چیرا ہوا ہو، اور «خرقاء» جس کے کان میں ( گول ) سوراخ ہو۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شریح بن نعمان صائدی، کوفہ کے رہنے والے ہیں اور علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے ساتھیوں میں سے ہیں، ۳- شریح بن ہانی کوفہ کے رہنے والے ہیں اور ان کے والد کو شرف صحبت حاصل ہے اور علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے ساتھی ہیں، اور شریح بن حارث کندی حضرت ابوامیہ قاضی ہیں، انہوں نے علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے روایت کی ہے، یہ تینوں شریح ( جن کی تفصیل اوپر گزری ) علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے ساتھی اور ہم عصر ہیں، ۳- «نستشرف» سے مراد «ننظر صحيحا» ہے یعنی قربانی کے جانور کو ہم اچھی طرح دیکھ لیں۔
