العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا أَبُو رَمْلَةَ عَنْ مِخْنَفِ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ كُنَّا وُقُوفًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُضْحِيَّةٌ وَعَتِيرَةٌ هَلْ تَدْرُونَ مَا الْعَتِيرَةُ هِيَ الَّتِي تُسَمُّونَهَا الرَّجَبِيَّةَ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَلَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ.
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Mikhnaf bin Sulaim (may Allah be well pleased with him) narrated: 'We were standing with the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) at Arafat when I heard him say: O people, upon every household in each year is an Udhiyyah (sacrifice) and an Atirah. Do you know what the Atirah is? It is what you call the Rajabiyyah (the sacrifice made in the month of Rajab).' Abu Isa said: This is a Hasan Gharib Hadith, and we do not know this hadith except from this chain through the narration of Ibn Awn.
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ( غیر شادی شدہ زانی اور زانیہ کو ) کوڑے لگائے اور شہر بدر کیا حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی کوڑے لگائے اور شہر بدر کیا، اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی کوڑے لگائے اور شہر بدر کیا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث غریب ہے، ۲- اسے کئی لوگوں نے عبداللہ بن ادریس سے روایت کیا ہے، اور ان لوگوں نے اسے مرفوع کیا ہے، ( جب کہ ) بعض لوگوں نے اس حدیث کو بطریق: «عن عبد الله بن إدريس هذا الحديث عن عبيد الله عن نافع عن حضرت ابن عمر» ( موقوفاً ) روایت کیا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ( غیر شادی شدہ زانی کو ) کوڑے لگائے اور شہر بدر کیا، عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کوڑے لگائے اور شہر بدر کیا، ۳- اس باب میں حضرت ابوہریرہ، زید بن خالد اور عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ہم سے اسے حضرت ابوسعید اشج نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے عبداللہ بن ادریس نے بیان کیا، نیز اسی طرح یہ حدیث عبداللہ بن ادریس کے علاوہ کئی ایک نے عبیداللہ بن عمر سے روایت کی ہے، اسی طرح اسے محمد بن اسحاق نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ( موقوفاً ) روایت کیا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کوڑے لگائے اور شہر بدر کیا، اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کوڑے لگائے اور شہر بدر کیا، لیکن اس میں ان لوگوں نے اس کا ذکر نہیں کیا کہ یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے آئی ہے، ۱- حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے مروی شہر بدر کرنے کی روایت صحیح ہے، ۲- اسے حضرت ابوہریرہ، زید بن خالد اور عبادہ بن صامت وغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے، ۳- نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے بعض اہل علم کا عمل اسی پر ہے، ان لوگوں میں حضرت ابوبکر، عمر، علی، ابی بن کعب، حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابوذر وغیرہم رضی اللہ تعالیٰ عنہم شامل ہیں، اسی طرح یہ حدیث کئی تابعین فقہاء سے مروی ہے، سفیان ثوری مالک بن انس، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔
